13 Nov, 2018 | 4 Rabiul Awal, 1440 AH

Hajj & Umrah

August 18, 2018

کیا یہ نیچے والی دعا صحیح ہے 9 ذو الحج کا روزه کون سے دن اور کس ملک کے ساتھ رکھیں ...... قرآن وسنت سے مدلل عمده فیصله کن جواب .* عرفہ کا دن سال کا بہترین دن ہے اور یه وه عظیم دن ہے جس کے بارے میں رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: *"کوئی دن ایسا نہیں ہے کہ اس میں الله تعالیٰ عرفات کے دن سے زیاده لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہو۔"* صحیح مسلم. نو ذوالحجہ کو روزه رکھنا خصوصی اجر و ثواب کا باعث ہے۔ "رسول الله ﷺ سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا. *یُُکََفِّرُ السَّنَۃَ الْمَاضِیَۃَ وَالبَاقِیَۃَ.* صحیح مسلم. *"گذشتہ سال اور آئنده سال کے گناہوں کا کفاره ہے."* یہ روزہ رکھنا غیر حاجیوں کے لیے مشروع ہے. حاجی میدان عرفات میں یہ روزه نہیں رکھيں گے. اب آتے هیں اس اهم مسئلے کی طرف بلاد حرمین شریفین سے باهر رهنے والے کیا کریں؟ 1_ احادیث میں جو فضیلت وارد هوئی هے وه عرفه کے روزے کی هے, 9 ذوالحجه کی نهیں هے. 2_ جس دن حاجی عرفات میں اکٹھے هوتے هیں صرف اس دن کو یوم عرفه کها جاتا هے. 3_ کسی بھی ملک سے آنے والا حاجی اپنے ملک کی تاریخ کے حساب سے حج نهیں کرسکتا هے کیونکه اس کا حج باطل هوگا. 4_ حج کا آغاز اهل مکه مکرمه کی طرف سے چاند دیکھنے کےمطابق هوگا اور عرفات میں بھی حاجی ان مسلمانوں کی رؤیت هلال کے حساب سے حاضر هونگے. 5_ کسی حدیث میں نو ذوالحجه کا روزه رکھنے کے الفاظ نهیں آئے هیں. یعنی اس روزے کا رمضان کی طرح چاند سے تعلق نهیں هے. بلکه اس کا تعلق عرفه کے دن سے هے اور عرفه اس دن کو کهتے هیں جب حاجی عرفات میں اکھٹے هوتے هیں. 6_ پس جس طرح حج پاکستان یا کسی اورملک کی تاریخ کے مطابق نهیں کیا جاسکتا هے بالکل اسی طرح یوم عرفه بھی کسی ملک کی تاریخ کے مطابق متعین نهیں هوگا بلکه صرف اهل خانه کعبه کی رؤیت هلال کے مطابق هوگا. 7_ جو اس بات کی مخالفت کرتے هیں ان کو چیلنج هے که وه حج بھی اپنی تاریخ کے حساب سے کرکے دکھائیں. یعنی جس دن ان کی تاریخ کے حساب سے عرفه کا دن هو اس دن صبح جهاز میں مکه جائے اور طواف کرنے کے بعد عرفه میں شام تک کھڑے هوکر واپس آجائیں. کوئی بھی اسے حاجی نهیں مانے گا لیکن جو سعودیه کی تاریخ کے حساب سے جائے گا تواسے سب حاجی مانیں گے. خلاصه کلام دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس دن روزه رکھنا چاهیے جس دن حاجی عرفات میں هو خواه ان کے اپنے ملک میں اس دن کی تاریخ کچھ بھی کیوں نه هو. اس وجه سے که روزے کا تعلق یوم عرفه سے هے اور عرفه کا تعلق حاجیوں کے میدان میں اکٹھے هونے سے هے . اس روزے کا هر ملک کے چاند سے تعلق نهیں هے. پهلے میڈیا, فون اور جهاز جیسی سهولتیں نهیں تھی جس کی وجه سے کئی هفتوں ومهینوں بعد پته چلتا تھا. اب یه اضطراری کیفیت ختم هوچکی هے اور بروقت اطلاع پوری دنیا میں چند سکینڈوں میں مل جاتی هے. اب کوئی شرعی عذر باقی نهیں رها ان شاء الله اس بار حاجی حضرات پیرکو میدان عرفات میں اکٹھے هونگے اور هم سب مسلمانوں نے اپنے دو سال کے گناه معاف کرانے کے لیے پیر کے دن کا روزه رکھنا هے . دعا هے که الله تعالی اس دن جب پورے سال کی نسبت سب سے زیاده جهنم سے گردنوں کو آزاد فرمائے گا تو هماری گردنوں کو بھی آزاد فرمادے. آمین یا رب العالمین?

read more