29 Jan, 2023 | 7 Rajab, 1444 AH

Finance

January 19, 2023

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ محترم مفتیان کرام! میں نیشنل بنک آف پاکستان میں آفیسر گریڈ 1 بطور ھیڈ آف کمپنزیشن اینڈ بنیفٹس کام کر رہا ہوں۔ بنک اپنے ملازمین کو رعایتی نرخ پر قرضے فراہم کرتا ہے جن میں میں گاڑی اور گھر کے لیے قرضے شامل ہیں۔ میں بنک سے گھر کی خرید اور تعمیر کے لیے قرضہ لینا چاہتا ہوں لیکن اس سے پہلے کچھ باتوں میں رہنمای درکار ہے۔ قرضے کی شرایط اور طریقہ کار مندرجہ ذیل ہیں؛ 1. قرض کی رقم 180 بنیادی تنخواہ کے مساوی فراہم کی جاتی ہے۔ 2. بنک اپنے ملازمین سے سالانہ 3 فیصد کے حساب سے "مارک اپ" چارج کرتا ہے جو اصل زر کی ماہانہ قسط وار ادایگی ختم ہوجانے کے بعد یکمشت یا ماہانہ اقساط کی صورت میں لیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ سہولت صرف بنک میں ملازمت تک محدود ہے اوراس شرط کے ساتھ کہ بنک ملازمین اپنے پی ایل ایس اکاونٹ پر منافع بھی نہیں لے گا جس کے لیے وہ بنک کو ایک انڈرٹیکنگ دے گا۔ اگر کسی بھی وجہ سے ملازمت ختم ہوتی ہے تو "مارک اپ" ریٹ ہوتا ہے اسٹیت بنک ڈسکاونٹ ریٹ+2 فیصد۔ 3. پلاٹ یا گھر بنک کے پاس قرض کی کل میعاد یعنی 20 سال تک (100فیصد مورٹگیج) رہن ہوتی ہے اور صارف اس جایداد کو بیچ یا کسی دوسرے کے نام پر منتقل نہیں کرسکتا جب تک کہ قرض کی رقم مکمل طور پر ادا نہ کردے۔ 4. بنک جو دستاویزات لے گا اس کے مطابق: ا۔ پلاٹ یا گھرخریدنے کی صورت میں بنک پیمنٹ آرڈر کے ذریعے بیچنے والے کو ادایگی کرے گا (یعنی ملازمین کو نقد رقم فراہم نہیں کی جاتی) اورصارف ایک معاہدے کے تحت گھر یا پلاٹ بنک سے خرید لیتا ہے اور ایک طے شدہ شیڈول کے تحت ماہانہ اقساط کی صورت میں ادایگی کرے گا ب۔ پلاٹ کی خریداری میں کیے جانے والے اخراجات بنک کا ملازم ادا کرے گا مثلا انشورنس/ ٹیکس/مرمت وغیرہ۔ ج۔ پلاٹ یا گھر سے حاصل ہونے والے منافع کا حقدار بنک کا ملازم ہوگا اور اگر وہ نادہندہ ہو جاے تو بنک کو اس پراپرٹی کو نیلامی کے زریعے بیچنے یا اس سے کرایہ وغیرہ وصول کرنے کا اختیار ہو گا علاوہ ازیں نیلامی پہ جہ خرچہ ہو گا وہ بھی بنک ملازم سے وصول کیا جاے گا۔?

تفصیل/مزیدمعلومات

June 25, 2021

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص ملک رحیم الدین 2000ء میں فوت ہوگئے ۔ اس کےورثاءمیں 5 بیٹے ) عمر فاروق،ساجد رحیم،خالد رحیم،آصف رحیم،طارق رحیم ( اور 2 بیٹیاں اور بیوہ تھی اور ان کا تیل اور کھل کا کاروبار تھا۔ بقول خالد رحیم حلفا" والد صاحب کامال تجارت تقریباً2 لاکھ 30 ہزار روپے کا تھا اور ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے نقد رقم تھی ۔اس کے بعد کاروبار چلتا رہا ۔2003ء میں خالدرحیم نے دوسری دکان میں پی۔سی۔او ، کانے، بانس ، موڑھے اور ڈیکوریشن کا کام شروع کیا ۔ میں نے قرض لے کر کاروبار شروع کیا اور والد کے کھل اور تیل کے کاروبار سے کچھ نہیں لیادونوں دکانوں کا کنٹرول میرے پاس ہی تھا اور کیش ایک ہی جگہ اکٹھا ہو تا تھا اور 2005 میں اپنے ذاتی کاروبار سے رقم لے کر 10مرلہ کا پلاٹ لیا اور پراپرٹی کا کام شروع کیا۔اس کو تین بھائیوں خالد ،آصف اور طارق کے نام کروایا ۔پھر اس کو بیچ کر 50 لاکھ میں دوکان خریدی گئی اور اس کو بھی تین بھائیوں خالد ،آصف اور طارق کے نام کروایا۔اور اس دوکان کو 97لاکھ میں بیچا گیا۔ پھر 40 لاکھ کا ایک پلاٹ خرید کر آصف اور طارق کے نام لگوایا جس کو بعد میں 54 لاکھ میں بیچ کر آصف اور طارق نے اپنے بڑے بھائی ساجد رحیم کا حصہ 40 لاکھ میں خرید لیا اور یہ ساری پراپرٹی میری ذاتی ملکیت تھی صر ف نام کروانے کی حد تک آصف اور طارق کا نام شامل کیا۔اور طارق نے جو حصہ بڑے بھائی ساجد اور بہن سے خریدا ہے وہ بھی میرا ہے کیونکہ اس نے میرے پلاٹ کو جو صرف نام کی حد تک اسکا تھابیچ کر قیمت ادا کی تھی۔ اورسرسوں کے تیل کوہلو والا کام اب بھی اُسی طرح موجود ہےاور آصف کی بیوہ کے پاس موجود ہے۔ بقول عمرفاروق والد صاحب کامال تجارت تقریباً13 لاکھ روپے اور نقدرقم 2 لاکھ روپے تھی ۔ ۔جبکہ والد صاحب کے کاروبارد کی رقم سے خالد رحیم نے دوسری دکان میں پی۔سی۔او ، کانے، بانس ، موڑھے اور ڈیکوریشن کامشترکہ کام شروع کیا ۔پھر والد کے کاروبارسے رقم نکال کر 10 مرلہ کا پلاٹ خریدا ۔اس کو تین بھائیوں خالد ،آصف اور طارق کے نام کروایا ۔پھر اس کو بیچ کر 50 لاکھ میں دوکان خریدی گئی اور اس کو بھی تین بھائیوں خالد ،آصف اور طارق کے نام کروایا۔اور اس دوکان کو 97لاکھ میں بیچا گیا۔ پھر 40 لاکھ کا ایک پلاٹ خرید کر آصف اور طارق کے نام لگوایا جس کو بعد میں 54 لاکھ میں بیچا اور مزید پراپرٹی کا کاروبار کیا گیا۔ 1۔لہذا 10 مرلہ کے پلاٹ اور دوکان اور اس کے آگے پراپرٹی کے کاروبار میں سب بہین بھائی شریک ہونگے؟ یا والد نے وفات کے وقت جو رقم اور مال چھوڑا ہے اس میں سب بیٹے اور بیٹیاں وارث ہونگے؟ جو اس میں مزید ترقی ہوئی ہے ۔10 مرلہ کا پلاٹ ، دوکان اور پراپرٹی کی ترقی ہوئی ہے اس کے کاروبار کرنے والے بیٹے ہی مالک ہیں؟ 2۔ 2018ء میں سب بہن بھائی اور بیوہ نے بیٹھ کر مرحوم کی2دوکانوں اور 2 مکان کی قیمت 2کروڈ اور 40 لاکھ روپے لگائی۔فی لڑکا حصہ 40 لاکھ بنا اور فی لڑکی حصہ 20 لاکھ بنا اورخالد ،آصف اور طارق نے ایک بھائی اور دو بہنوں کو رقم ادا کی اور ان کا حصہ برابر برابر خرید لیا ۔ بیوہ آصف، طارق ،خالد کے مطابق اس ڈیل کے وقت سب موجود تھے اور راضی تھے۔عمر فاروق کے بقول میں اس قیمت پر راضی نہیں تھا۔ سب کو حصہ نہیں دیا گیا۔تو اب 2018ء والی رقم کا اعتبار کیا جائے گا یا اب 2021ء میں دوکانوں اور مکانوں کی نئے سرے سے قیمت لگوا کر تقسیم کی جائے گی؟ 3۔قیمت لگاتے وقت والدہ زندہ تھیں اور مجلس میں موجود تھیں لیکن ان کے حصے کی قیمت بھی لگائی گئی تو اس کا کیا حکم ہے؟ 4۔اب ایک بھائی آصف فوت ہو گیا ہے جس کے ورثاء میں ایک بیوہ تین بیٹیاں چار بھائی دو بہنیں ہیں اب والد اور آصف کی وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟ 5۔جو حصہ والد کی جائیداد کا آصف نے زندگی میں بھائی اور بہن سے خریدا تھا کیا وہ بھی تقسیم ہو گااور مکمل تقسیم سے پہلے یہ خرید و فروخت جائز ہے؟ 6۔دونوں مکانوں میں تین بھائیوں نے اپنی مرضی سے کچھ تعمیرات کیں تو کیا اب وہ بھی تقسیم ہو گی یا وہ اسکی قیمت باقیوں سے لیں گے یا وہ اسے اکھاڑ سکتے ہیں؟ 7۔کیا جو بھائی ان مکانوں میں نہیں رہتے رہے وہ دوسروں سے بیس سال کے کرایہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟ 8۔جو بھائی دکان پہ کام کرتے رہے وہ تنخواہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟ 9۔اب تک جو مشترکہ کاروبار سے کچھ ورثاء نے کھایا اور خرچہ کیا اس کا حکم ہے؟ 10۔خالد کہتا ہے کی طارق نے جو حصہ بڑے بھائی ساجد اور بہن سے خریدا ہے وہ بھی میرا ہے کیونکہ تم نے میرے پلاٹ کو جو صرف نام کی حد تک تمہارا تھابیچ کر قیمت ادا کی اور میں تم سے وہ قیمت مانگتا رہا تو کیا خالد کا یہ مطالبہ درست ہے ؟ 11۔آصف نے فوت ہونے سے کچھ عرصہ پہلے سب بہن بھائیوں کو بتا دیا تھا کہ میں نے اپنی جائیداد اپنی بیوی اور بیٹیوں کو دے دی ہے لیکن نام کروانے سے پہلے ہی وہ فوت ہو گئے تو کیا وہ ابھی تک آصف کی ملکیت سمجھی جائے گی اور ورثاء میں تقسیم ہو گی یا نہیں ؟ 12۔دونوں دکانوں کا کیش ایک ہی جگہ جمع ہوتا تھا تو کیا خالد کا بیان درست سمجھا جائے گا کہ میں نے علیحدہ پیسوں سے پلاٹ خریدے حالآنکہ پیسے تو اسی اکٹھے کیش سے لیئے؟ شرعی مسئلہ سے آگاہ فرمائیں۔ بینو اتو جروا?

read more