22 Oct, 2021 | 15 Rabi Al-Awwal, 1443 AH

Heba’ah,Aaria’ah,Sadaqa’ah.

October 01, 2021

مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرے دادا کا انتقال حال ہی میں اپریل 2021 میں ہوا۔ دادا کے ورثاء میں سے دادی، ایک چچا اور تین پھوپیاں زندہ ہیں۔ جس گھر میں ہم رہتے ہیں وہ دادا کا ہے۔ گھر میں چار کمرے ہیں، دو بیڈ روم، ایک ھال اور کچن۔ایک بیڈ روم میں دادا دادی رہتے تھے اور دوسرے میں ہمارے والد اور والدہ۔ ہمارے والد صاحب کا انتقال دادا سے قبل 2014 میں ہوگیا ۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد دادا نے کئی مرتبہ والدہ سے کہا کہ یہ گھر تیرا ہے۔ اسی طرح اپنی زندگی میں دادا نے اور لوگوں سے بھی اس بات کی وضاحت فرمائی کہ وہ بیڈروم ( جس میں میری والدہ رہتی تھیں) میری والدہ کا ہے۔ اس کمرے کے سلسلے میں ہبہ کا اقرار اور اطلاع بارہا انہوں نے دادی کے سامنے، میرے سامنے اور عبد العزیز چچا کے سامنے کیا۔ اس کے علاوہ دیگر احباب اور رشتے داروں میں رضیہ خالہ سے بھی اس کا تذکرہ کیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ میری والدہ کو گھر سے کوئی نہیں نکال سکے گا۔ یہ مذکورہ حضرات ان تمام باتوں کا اعتراف کرتے ہیں اور اخیر میں ہر ایک نے اپنے تصدیقی دستخط شامل کئے ہیں۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد بھی ہماری والدہ اسی کمرے میں رہیں اور آج بھی اسی کمرے میں رہتی ہیں۔ وہ کمرہ مکمل طور پر سامان وغیرہ سمیت والدہ ہی کے قبضہ میں ہے۔ ورثاء میں سے ایک پھوپی کا یہ کہنا ہے کہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں مجھ سے کبھی اس کا ذکر نہیں کیا نیز یہ بھی کہتی ہے کہ آپسی لڑائی کے موقع پر شاید غصہ میں دادا نے یہ الفاظ ادا کیے ہوں جس سے ان کی مراد ہبہ یا تملیک نہ ہو۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ : 1. والدہ کے کمرے کے سلسلے میں دادا کا ان کے نام ہبہ کرنا درست ہے یا نہیں ؟ 2. والدہ سے براہ راست ایک سے زائد مرتبہ پورے گھر کا ہبہ فرمایا۔۔۔ اس کا کیا حکم ہوگا۔؟ 3. نیز کیا ورثاء میں سے کل یا بعض کو اس کی اطلاع نہ دینے کی وجہ سے ہبہ درست ہوگا یا نہیں ؟?

تفصیل/مزیدمعلومات