23 Jul, 2021 | 13 Dhul Hijjah, 1442 AH

Other

June 11, 2021

ہمارےہاں مساجد میں ختم قران کےموقع پر طعام یا شیرینی مٹھائی وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس میں بعض چھوٹی تراویح کی جگہیں ہوتی ہیں جہاں کوئی ایک فرد یا کچھ مخصوص افراد اس کا اہتمام کرتے ہیں جس کے جواز کا فتوی آپ کےہاں سے دیا جاتا ہے۔۔۔ لیکن اسی کے تسلسل میں بڑی مساجد بالخصوص غریب آبادیوں کی مساجد میں بھی اس کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں کوئی ایک فرد یا کچھ مخصوص افراد یہ استطاعت نہیں رکھتے تو اس کے لیے عوام سے چندہ کیا جاتا ہے اور مسجد میں اعلانات بھی کیے جاتے ہیں، جس کی مندرجہ بالا صورتیں دیکھی گئی ہیں: 1. لوگوں پہ کوئی مخصوص رقم نہیں باندھی جاتی ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق دے سکتا ہے لیکن اس کا باقاعدہ اعلان مسجد سے کیا جاتا ہے اور چندہ کی جھولی چلائی جاتی ہے۔ 2. چندہ کے ساتھ ساتھ باقاعدہ فی گھر کے ساتھ ایک رقم مخصوص کر دی جاتی ہے جو ان کو دینا لازم ہے ، اگر بلفرض اس میں لازمی دینے کا عنصر منہا بھی کر دیا جائے تو بھی یہ بات ایک عمومی سمجھ میں آنے والی ہے کہ اگر کوئی شخص نہیں دے گا تو یقینا اس کی اہمیت امام مسجد یا منتظمین کے نزدیک گر جائے گی تو در حقیقت تو وہ بھی اس کا پابند ہی ہوتا ہے ۔ اور ان سب کے دفاع میں جواز کا فتوی اور لوگوں کی بھرپور شرکت اور اس کے نتیجے میں بیان کا زیادہ لوگوں تک پہنچنا ، یہ دو حکمتیں بتائی جاتی ہیں۔ اب ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم ارشاد فرما دیں کہ: 1. مندرجہ بالا دو صورتوں میں کیے گئے اہتمام کی حیثیت کیا ہے ؟ 2. ان صورتوں دی گئی رقم کا کیا حکم ہے ؟نیز ان صورتوں میں دی جانے والی رقم پر ثواب ملے گا کہ نہیں؟?

تفصیل/مزیدمعلومات

June 04, 2021

ہمارےہاںمساجد میں ختم قران کےموقع پر طعام یا شیرینی مٹھائی وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس میں بعض چھوٹی جگہیں ہوتی ہیں جہاں کوئی ایک فرد یا کچھ مخصوص افراد اس کا اہتمام کرتے ہیں جس کے جواز کا فتوی آپ کےہاں سے دیا جاتا ہے۔۔۔ لیکن اسی کے تسلسل میں بڑی مساجد بالخصوص غریب آبادیوں کی مساجد میں بھی اس کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں کوئی ایک فرد یا کچھ مخصوص افراد یہ استطاعت نہیں رکھتے تو اس کے لیے عوام سے چندہ کیا جاتا ہے اور مسجد میں اعلانات بھی کیے جاتے ہیں، جس کی مندرجہ بالا صورتیں دیکھی گئی ہیں: 1. لوگوں پہ کوئی مخصوص رقم نہیں باندھی جاتی ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق دے سکتا ہے لیکن اس کا باقاعدہ اعلان مسجد سے کیا جاتا ہے اور چندہ کی جھولی چلائی جاتی ہے۔ 2. چندہ کے ساتھ ساتھ باقاعدہ فی گھر کے ساتھ ایک رقم مخصوص کر دی جاتی ہے جو ان کو دینا لازم ہے ، اگر بلفرض اس میں لازمی دینے کا عنصر منہا بھی کر دیا جائے تو بھی یہ بات ایک عمومی سمجھ میں آنے والی ہے کہ اگر کوئی شخص نہیں دے گا تو یقینا اس کی اہمیت امام مسجد یا منتظمین کے نزدیک گر جائے گی تو در حقیقت تو وہ بھی اس کا پابند ہی ہوتا ہے ۔ اور ان سب کے دفاع میں جواز کا فتوی اور لوگوں کی بھرپور شرکت اور اس کے نتیجے میں بیان کا زیادہ لوگوں تک پہنچنا ، یہ دو حکمتیں بتائی جاتی ہیں۔ اب ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم ارشاد فرما دیں کہ: 1. مندرجہ بالا دو صورتوں میں کیے گئے اہتمام کی حیثیت کیا ہے ؟ 2. ان صورتوں دی گئی رقم کا کیا حکم ہے ؟نیز ان صورتوں میں دی جانے والی رقم پر ثواب ملے گا کہ نہیں؟?

تفصیل/مزیدمعلومات