24 Sep, 2018 | 13 Muharram, 1440 AH

السلام عليكم ورحمةالله وبركاته میرا سوال یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو اور دوسرے مرد کو یہ کہے کہ "آپ دونوں آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں آپ دونوں خوشی سے رہو میں خود چلے جاتا ہوں" کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟؟؟

الجواب حامدا و مصلیا

صورت مسئولہ میں   شوہر کے الفاظ ’’آپ دونوں خوشی سے رہو ،میں خود چلا جاتا ہوں‘‘ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی؛   کیونکہ یہ  ’’الفاظ  کنائی‘‘ میں سے نہیں ہے۔

فی البحر الرائق (3/ 330)

وخرج عنه لم أتزوجك أو لم يكن بيننا نكاح ووالله ما أنت لي بامرأة وقوله لا عند سؤاله بقوله ألك امرأة وقوله لا حاجة لي فيك كما في البدائع ففي هذه الألفاظ لا يقع وإن نوى عند الكل.

الفتاوى الهندية (1/ 376)

وكذا كل لفظ لا يحتمل الطلاق لا يقع به الطلاق وإن نوى مثل قوله بارك الله عليك أو قال لها أطعميني أو اسقيني ونحو ذلك.

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

‏02‏ محرّم‏، 1440ھ

‏13‏ ستمبر‏، 2018ء