25 Sep, 2021 | 17 Safar, 1443 AH

Question #: 2754

February 28, 2021

Assalamualaikum Kia Haj e badal wahi kar sakta hai k jis ne pehle apna haj kia ho??

Answer #: 2754

الجواب حامدا ومصلیا

افضل یہ ہے کہ حج بدل کے لیے ایسے شخص کو بھیجا جائے جو اپنا حج پہلے کرچکا ہو؛ لیکن اگر اپنا حج فرض ادا کئے بغیر بھی کوئی شخص دوسرے کی طرف سے حج بدل کرلے تو بھی صحیح ہوجاتا ہے ؛ البتہ اگرحج بدل پر جانے والے شخص پر اپنا حج فرض تھا اوراس نے نہیں کیا تو اپنا فرض حج  ادا کرنے کے بجائے دوسرے کی طرف سے حج بدل کے لئے  چلاجائے، تو اس کا یہ عمل مکروہ تحریمی ہے اور جس پر حج فرض نہیں ہوا وہ اگر ایسا کرے تو یہ خلافِ اولیٰ ہے ؛ لیکن حج بدل بہر دو صورت ادا ہوجائے گا؛ لہٰذا صورت مسئولہ میں اگرچھوٹے بھائی پر حج فرض ہوچکاہے تو اُس کے لیے اپنا فرض حج کرنے سے پہلے حج بدل کے لیے جانا مکروہِ تحریمی ہوگا، اگرچہ حج ادا ہوجائے گا اور اگر اس پر حج فرض نہیں ہوا ہے، تو ایسی صورت میں حج بدل کرنے کی گنجائش ہوگی۔

قال فی الفتح والبحر: والحق أنہا تنزیہیة للاٰمر لقولہم: والأفضل إحجاج الحر العالم بالمناسک الذی حج عن نفسہ حجة الإسلام تحریمیة علی الصرورة المامور إن کان بعد تحقق الوجوب علیہ بملک الزاد والراحلة والصحة؛ لأنہ یتضیق علیہ والحالة ہٰذہ فی أول سنی الإمکان فیأثم بترکہ۔ وکذا فی کافی أبی الفضل: قال: إن کان بعد تحقق الوجوب علیہ بملک الزاد والراحلة والصحة فہو مکروہ کراہة تحریم۔ (غنیة الناسک / باب الحج عن الغیر ۳۳۸إدارة القرآن کراچی)

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق غَفَرَاللّٰہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ