11 May, 2021 | 29 Ramadan, 1442 AH

Question #: 2492

September 02, 2019

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ محترم المقام مفتی صاحب ایک سوال میں رہنمائی درکار تھی اگر کوئی شخص بغیر احرام کے حدود حرم میں داخل ہوجائے تو کم از کم کتنے وقت میں اسے حدود حرم سے واپس میقات انہ ہوگا تاکہ دم نا آجائے جزاکم اللہ احسن الجزاء لا

Answer #: 2492

الجواب حامدا ومصلیا

 میقات سے باہر رہنے والا مسلمان اگر مکہ (یا حدودِ حرم) کے لئے جارہا ہو ، خواہ  یہ سفر کسی بھی مقصد سے ہو، اور وہ میقات سے احرام باندھے بغیر گذرجائے تو اس پر حج یا عمرہ کی ادائیگی اور احرام باندھنے کے لئے میقات کی طرف لوٹنا واجب ہے،  خواہ میقات  سے ابھی قریب  ہویادور چلا گیا ہو، اس میں وقت کی کوئی تعیین و تحدید نہیں ہے، اگر وہ احرام باندھنے کے لئے میقات کو نہیں لوٹے گا  تو دم لازم ہوگا ۔

عن سعید بن جبیر عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: لا تجاوزوا المواقیت إلا بإحرام.

(المصنف لابن أبي شیبۃ ۴؍۵۲ بیروت)

عن سعید بن جبیر رضي اللّٰہ عنہ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: لا یجاوز أ؛د الوقت إلا محرم.

(المصنف لابن أبي شیبۃ ۸؍۷۰۲ رقم: ۱۵۷۰۲ المجلس العلمي)

عن داؤد عن مجاہد أنہ قال لہ: إذا جئتَ من بلد آخر فلا تجاوز الحدَّ حتی تحرم.

(المصنف لابن أبي شیبۃ ۸؍۷۰۳ رقم: ۱۵۷۰۴ المجلس العلمي)

وأخرج البیہقي بلفظ: ’’لا یدخل أحد مکۃ إلا محرم‘‘ قال الحافظ: إسنادہ جید.

 (نیل الأوطار ۴؍۱۸۱، إعلاء السنن ۱۰؍۲۱ رقم: ۲۵۶۴ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہ قال: إذا جاوز الوقت فلم یحرم حتی دخل مکۃ رجع إلی الوقت فأحرم، وإن خشي إن رجع إلی الوقت فإنہ یحرم ویہریق لذلک دماً. (فتح القدیر ۲؍۴۲۶-۴۳۳ بیروت)

اٰفاقي مسلم مکلف أراد دخول مکۃ أو الحرم ولو لتجارۃ أو سیاحۃ وجاوز اٰخر مواقیتہٖ غیر محرم، ثم أحرم أو لم یحرم أثم، ولزمہ دم وعلیہ العود إلی میقاتہ الذي جاوزہ۔  (غنیۃ الناسک ۶۰،  ومثلہ في الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۲۵۳)

ومن دخل أي من أہل الاٰفاق مکۃ أو الحرم بغیر إحرام فعلیہ أحد النسکین أي من الحج والعمرۃ، وکذا علیہ دم المجاوزۃ أو العود۔ (مناسک ملا علي قاري ۸۷، ومثلہ في البحر العمیق ۳؍۶۱۸، درمختار ۳؍۶۲۶ زکریا، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۵۵۲ زکریا)

فإن لم یعد ولا عذر لہ أثم اخریٰ لترکہٖ العود الواجب. (غنیۃ الناسک ۶۰، ومثلہ في الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۵۵۲، الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۲۵۳، درمختار ۳؍۶۲۱ زکریا)

فإن کان لہ عذر کخوف الطریق، أو الانقطاع عن الرفقۃ، أو ضیق الوقت أو مرض شاق ونحو ذٰلک فاحرم من موضعہ ولم یعد إلیہ لم یأثم بترک العود وعلیہ الاثم والدم بالاتفاق۔ (غنیۃ الناسک ۶۰، البحر العمیق ۳؍۶۱۹، الدر المختار ۳؍۶۲۲، الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۲۵۳)

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غَفَرَاللّٰہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

‏24‏ صفرالمظفر‏، 1441ھ

‏24‏ اکتوبر‏، 2019ء