23 Jul, 2021 | 13 Dhul Hijjah, 1442 AH

Question #: 2829

June 25, 2021

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص ملک رحیم الدین 2000ء میں فوت ہوگئے ۔ اس کےورثاءمیں 5 بیٹے ) عمر فاروق،ساجد رحیم،خالد رحیم،آصف رحیم،طارق رحیم ( اور 2 بیٹیاں اور بیوہ تھی اور ان کا تیل اور کھل کا کاروبار تھا۔ بقول خالد رحیم حلفا" والد صاحب کامال تجارت تقریباً2 لاکھ 30 ہزار روپے کا تھا اور ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے نقد رقم تھی ۔اس کے بعد کاروبار چلتا رہا ۔2003ء میں خالدرحیم نے دوسری دکان میں پی۔سی۔او ، کانے، بانس ، موڑھے اور ڈیکوریشن کا کام شروع کیا ۔ میں نے قرض لے کر کاروبار شروع کیا اور والد کے کھل اور تیل کے کاروبار سے کچھ نہیں لیادونوں دکانوں کا کنٹرول میرے پاس ہی تھا اور کیش ایک ہی جگہ اکٹھا ہو تا تھا اور 2005 میں اپنے ذاتی کاروبار سے رقم لے کر 10مرلہ کا پلاٹ لیا اور پراپرٹی کا کام شروع کیا۔اس کو تین بھائیوں خالد ،آصف اور طارق کے نام کروایا ۔پھر اس کو بیچ کر 50 لاکھ میں دوکان خریدی گئی اور اس کو بھی تین بھائیوں خالد ،آصف اور طارق کے نام کروایا۔اور اس دوکان کو 97لاکھ میں بیچا گیا۔ پھر 40 لاکھ کا ایک پلاٹ خرید کر آصف اور طارق کے نام لگوایا جس کو بعد میں 54 لاکھ میں بیچ کر آصف اور طارق نے اپنے بڑے بھائی ساجد رحیم کا حصہ 40 لاکھ میں خرید لیا اور یہ ساری پراپرٹی میری ذاتی ملکیت تھی صر ف نام کروانے کی حد تک آصف اور طارق کا نام شامل کیا۔اور طارق نے جو حصہ بڑے بھائی ساجد اور بہن سے خریدا ہے وہ بھی میرا ہے کیونکہ اس نے میرے پلاٹ کو جو صرف نام کی حد تک اسکا تھابیچ کر قیمت ادا کی تھی۔ اورسرسوں کے تیل کوہلو والا کام اب بھی اُسی طرح موجود ہےاور آصف کی بیوہ کے پاس موجود ہے۔ بقول عمرفاروق والد صاحب کامال تجارت تقریباً13 لاکھ روپے اور نقدرقم 2 لاکھ روپے تھی ۔ ۔جبکہ والد صاحب کے کاروبارد کی رقم سے خالد رحیم نے دوسری دکان میں پی۔سی۔او ، کانے، بانس ، موڑھے اور ڈیکوریشن کامشترکہ کام شروع کیا ۔پھر والد کے کاروبارسے رقم نکال کر 10 مرلہ کا پلاٹ خریدا ۔اس کو تین بھائیوں خالد ،آصف اور طارق کے نام کروایا ۔پھر اس کو بیچ کر 50 لاکھ میں دوکان خریدی گئی اور اس کو بھی تین بھائیوں خالد ،آصف اور طارق کے نام کروایا۔اور اس دوکان کو 97لاکھ میں بیچا گیا۔ پھر 40 لاکھ کا ایک پلاٹ خرید کر آصف اور طارق کے نام لگوایا جس کو بعد میں 54 لاکھ میں بیچا اور مزید پراپرٹی کا کاروبار کیا گیا۔ 1۔لہذا 10 مرلہ کے پلاٹ اور دوکان اور اس کے آگے پراپرٹی کے کاروبار میں سب بہین بھائی شریک ہونگے؟ یا والد نے وفات کے وقت جو رقم اور مال چھوڑا ہے اس میں سب بیٹے اور بیٹیاں وارث ہونگے؟ جو اس میں مزید ترقی ہوئی ہے ۔10 مرلہ کا پلاٹ ، دوکان اور پراپرٹی کی ترقی ہوئی ہے اس کے کاروبار کرنے والے بیٹے ہی مالک ہیں؟ 2۔ 2018ء میں سب بہن بھائی اور بیوہ نے بیٹھ کر مرحوم کی2دوکانوں اور 2 مکان کی قیمت 2کروڈ اور 40 لاکھ روپے لگائی۔فی لڑکا حصہ 40 لاکھ بنا اور فی لڑکی حصہ 20 لاکھ بنا اورخالد ،آصف اور طارق نے ایک بھائی اور دو بہنوں کو رقم ادا کی اور ان کا حصہ برابر برابر خرید لیا ۔ بیوہ آصف، طارق ،خالد کے مطابق اس ڈیل کے وقت سب موجود تھے اور راضی تھے۔عمر فاروق کے بقول میں اس قیمت پر راضی نہیں تھا۔ سب کو حصہ نہیں دیا گیا۔تو اب 2018ء والی رقم کا اعتبار کیا جائے گا یا اب 2021ء میں دوکانوں اور مکانوں کی نئے سرے سے قیمت لگوا کر تقسیم کی جائے گی؟ 3۔قیمت لگاتے وقت والدہ زندہ تھیں اور مجلس میں موجود تھیں لیکن ان کے حصے کی قیمت بھی لگائی گئی تو اس کا کیا حکم ہے؟ 4۔اب ایک بھائی آصف فوت ہو گیا ہے جس کے ورثاء میں ایک بیوہ تین بیٹیاں چار بھائی دو بہنیں ہیں اب والد اور آصف کی وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟ 5۔جو حصہ والد کی جائیداد کا آصف نے زندگی میں بھائی اور بہن سے خریدا تھا کیا وہ بھی تقسیم ہو گااور مکمل تقسیم سے پہلے یہ خرید و فروخت جائز ہے؟ 6۔دونوں مکانوں میں تین بھائیوں نے اپنی مرضی سے کچھ تعمیرات کیں تو کیا اب وہ بھی تقسیم ہو گی یا وہ اسکی قیمت باقیوں سے لیں گے یا وہ اسے اکھاڑ سکتے ہیں؟ 7۔کیا جو بھائی ان مکانوں میں نہیں رہتے رہے وہ دوسروں سے بیس سال کے کرایہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟ 8۔جو بھائی دکان پہ کام کرتے رہے وہ تنخواہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟ 9۔اب تک جو مشترکہ کاروبار سے کچھ ورثاء نے کھایا اور خرچہ کیا اس کا حکم ہے؟ 10۔خالد کہتا ہے کی طارق نے جو حصہ بڑے بھائی ساجد اور بہن سے خریدا ہے وہ بھی میرا ہے کیونکہ تم نے میرے پلاٹ کو جو صرف نام کی حد تک تمہارا تھابیچ کر قیمت ادا کی اور میں تم سے وہ قیمت مانگتا رہا تو کیا خالد کا یہ مطالبہ درست ہے ؟ 11۔آصف نے فوت ہونے سے کچھ عرصہ پہلے سب بہن بھائیوں کو بتا دیا تھا کہ میں نے اپنی جائیداد اپنی بیوی اور بیٹیوں کو دے دی ہے لیکن نام کروانے سے پہلے ہی وہ فوت ہو گئے تو کیا وہ ابھی تک آصف کی ملکیت سمجھی جائے گی اور ورثاء میں تقسیم ہو گی یا نہیں ؟ 12۔دونوں دکانوں کا کیش ایک ہی جگہ جمع ہوتا تھا تو کیا خالد کا بیان درست سمجھا جائے گا کہ میں نے علیحدہ پیسوں سے پلاٹ خریدے حالآنکہ پیسے تو اسی اکٹھے کیش سے لیئے؟ شرعی مسئلہ سے آگاہ فرمائیں۔ بینو اتو جروا

Answer #: 2829

الجواب حامدا ومصلیا

            1۔۔۔ جواب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ مفتی غیب نہیں جانتا،   وہ  سوال کے مطابق جواب دیتاہے، جیسا سوال ہوتا ہے اسی کے مطابق جواب لکھتا ہے ،سوال کے سچے اور جھوٹے ہونے کی ذمہ داری سائل پر ہوتی ہے ،غلط بیانی  کے ذریعے اپنے حق میں فتوی حاصل کرلینے سے حرام حلال نہیں ہوتا، بلکہ حرام بدستور حرام ہی رہتا ہے اور غلط بیانی کا مزید وبال بھی اس پرعائد ہوتا ہے۔

            جائیداد کے تنازع کے حتمی حل کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق کسی دار الافتاء میں جائیں اور  ان کو اپنا  ’’حَکَم‘‘  (ثالثی) مقرر کریں اور وہ جو فیصلہ کریں ، اس  کو دونوں فریق  تسلیم کریں۔

            ’’والد کے کا روبار کو   تقسیم کیے بغیر، مشترکہ  طور پر رکھا اور اس میں  محنت کی اور  آگے بڑھایا ‘‘اس کاروبار کی  ساری آمدن اور  سب اثاثے  ، اور اس کاروبار کی آمدن سے خریدے جانے والے سب اثاثے اور جائیداد  سب ورثہ کے درمیان مشترک ہوں گےاور ان کے درمیان میراث کے شرعی طریقہ کے مطابق  تقسیم ہوں گے۔

            والد نے وفات کے وقت جو رقم اور مال چھوڑا ہے ، صرف اس کو تقسیم کرنا اور  اس  کاروبار سے خریدے جانے والے اثاثے کوکسی   ایک فریق کا   رکھ لینا، یہ جائز نہیں ہے ، بلکہ سب اثاثوں  کو  تمام ورثہ کے درمیان تقسیم کرنا ضروری ہے۔

            10 مرلہ کے  پلاٹ، اور خالد رحیم کے متنازعہ کاروبار   کو  اگر عمر فاروق قابل اعتماد  گواہوں  اور دستاویزسے  یہ بات ثابت کردے کہ یہ  پلاٹ مشترکہ طور پر مشترک رقم سے لیا گیا ہے، تو  یہ پلاٹ اور کاروبار مشترک  سمجھا جائے گا ۔ اگر عمر فاروق کے پاس  گواہ اور ثبوت نہ ہو ں تو ’’خالد رحیم‘‘ پر قسم آئی گی ،اگر وہ قسم اٹھالیتا ہے کہ  تو یہ کاروبار اس کاذاتی سمجھا جائے گااور باقی بہن بھائیوں کا ان میں حصہ نہیں ہوگا۔ اگر وہ قسم کھانے سے انکار کردے تو پھر یہ پلاٹ اور کاروبار  مشترک سمجھائے گا  اور سب بہن بھائیوں کے درمیان تقسیم ہوگا۔

            2۔۔۔ جب ورثہ  باہمی رضامندی سے آپس میں میراث تقسیم کرلی ہے   اور سب ورثہ کے حصے متعین کرلیے ہیں ، تو اب اس کو منسوخ کرکے نئے سرے سے دوبارہ تقسیم کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر واقعتا کسی وارث کو وارث کو حصہ نہ دیا گیا ہوتو دوبارہ تقسیم کرسکتے ہیں۔

            3۔۔۔ اگر والدہ نے  اپنی زندگی میں اپنا حصہ  کی قیمت لگواکر اپنی اولاد کے درمیان  تقسیم کردیا ہے تو یہ جائز ہے۔

            4۔۔۔ آصف کے فوت ہونے وقت والدہ زندہ تھی یا نہیں ؟   اس وضاحت کے بعد ہی اس سوال کا جواب 

دیا جائےگا۔

            5۔۔۔ جو حصہ والد کی جائیداد کا آصف نے زندگی میں بھائی اور بہن سے خریدا تھا کیا ، اس کا یہ خریدنا جائز ہے اور حصہ والد کی میراث میں تقسیم نہیں ہوگا اور جن ورثہ نے یہ حصہ بیچا تھاوالد کی میراث   کی تقسیم کے وقت ان بہن بھائی لے کر آصف کو دیا جائے گا ۔

            6۔۔۔ یہ تعمیر مشترکہ رقم سے ہوئی ہے یا نہیں ؟  اور یہ تعمیر تقسیم وراثت سے پہلے ہوئی یا بعد میں؟ اس وضاحت کے بعد ہی اس سوال کا جواب  دیا جائےگا۔

            7۔۔۔ جو بھائی ان مکانوں میں نہیں رہتے رہے وہ دوسروں سے بیس سال کے کرایہ کا مطالبہ نہیں کرسکتے بشرطیکہ انہوں نے اس وقت یہ نہ کہا ہو کہ ہم اپنے حصے کا کرایہ لیں گے ۔

            8۔۔۔جو بھائی دکان پر کام کرتے رہے تو وہ اب تنخواہ کا مطالبہ نہیں کرسکتے ۔

            9۔۔۔ اب تک جو مشترکہ کاروبار سے کچھ ورثاء نے کھایا اور خرچہ کیا  ہے، اگر اس کے بارے میں ثبوتوں کے ساتھ تفصیل موجود ہو کہ فلاں نے اپنے ذاتی کام کے لیے مشترکہ رقم سے اتنی رقم لی ہے، تواس پر لازم ہے کہ باقی ورثہ کا حصہ واپس کرے ۔ اگر یہ معلوم نہ ہو کہ کس نے کتنے کھایا اور لیا تو اب ورثہ ایک دوسرے کو معاف کردیں۔

            10۔۔۔  اگر واقعتا ًخالدنے صرف نام کی حد تک اپنے بھائیوں کے نام پلاٹ کیا تھا اور ان کو مالکانہ طور پر دینا مقصود نہ تھا اور  ان کی رقم  ( قیمت ) زبردستی اپنے پاس رکھ لی تھی اور یہ رقم (قیمت)خالد نے ان کو نہیں  تھی تو اب اس کا اس رقم کا مطالبہ کرنا درست ہے۔

             اگر خالد نے وہ پلاٹ بیچ کر  کچھ رقم ان کو دی تھی اور    کچھ اپنے پاس رکھ لے اور اب وہ کہتا ہے وہ رقم قرض تھی ؟ تو اس بارے تفصیل سے لکھ کر  دوبارہ پوچھ لیں۔

            11۔۔۔  جواب سے پہلے بطور تمہید  کچھ باتیں سمجھ لینا ضروری ہے:

  • زندگی میں مرض الوفات سے پہلےپہلے  اپنی مملوکہ جائیداد میں  ہر طرح کا جائز تصرف کرسکتا ہے،جس میں ہبہ بھی داخل ہے۔
  • زندگی میں مرض الوفات سے پہلے کوئی شخص اگر اپنا   منقولہ و غیر منقولہ مال وجائیداد اپنی اولادیا رشتہ داروں  میں تقسیم کر دے تو اس کو عطیہ اورہبہ(گفٹ) کہا جاتا ہے۔
  • اور ہبہ کے مکمل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ جس کو زندگی  میں جو کچھ دیا جائےباقاعدہ  اس کا عملی قبضہ کرایا جائے،تب وہ اس کا مالک بنے گا عملی قبضہ کرائےبغیر صرف کاغذات میں نام کروا دینے سے یا قابلِ تقسیم اشیاء کو بغیر تقسیم کیئے مشترکہ طور پر دینے سے وہ اس کے مالک نہیں  بنیں گے ،بلکہ وہ چیز بدستور ہبہ کرنے والے کی ملکیت میں رہے گی ۔

      صورت مسؤلہ میں اگرآصف  نے اپنی  جائیدا د اپنی   بیوی اور بیٹیوں میں تقسیم کرکے ہر ایک کا حصہ الگ کرکے  ، ان کو اپنے   زندگی میں پر قبضہ کروادیا تھا ،تو جائیداد کےوہ مالک ہوجائیں گے ، اور اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی۔ اور اگر اس نے     ہر ایک کا حصہ الگ کرکے نہیں دیا تھا، یا ان کا قبضہ  نہیں کرایا تھا ،  (جیساکہ اس سوال مذکور ہے)تو ان دونوں صورتوں میں آصف  کی جائیداد آصف کی  ملکیت رہی گی  اور اس میں وراثت جاری ہوگی۔

وفی حاشية ابن عابدين: (4/ 314)

مطلب ادعى الشراء لنفسه وأما لو ادعى الشراء لنفسه لا للشركة. ففي الخانية: اشترى متاعا فقال الآخر هو من شركتنا وقال المشتري هو لي خاصة اشتريته بمالي لنفسي قبل الشركة فالقول له بيمينه بالله ما هو من شركتنا؛ لأنه حر يعمل لنفسه فيما اشترى. اهـ.

    والظاهر أن قوله قبل الشركة احتراز عن الشراء حال الشركة؛ ففيه تفصيل ذكره في البحر عن المحيط وهو أنه لو من جنس تجارتهما فهو للشركة وإن أشهد عند الشراء أنه لنفسه؛ لأنه في النصف بمنزلة الوكيل بشراء شيء معين وإن لم يكن من تجارتهما فهو له خاصة. اهـ.

    قلت: ويخالفه ما في فتاوى قارئ الهداية: إن أشهد عند الشراء أنه لنفسه فهو له، وإلا فإن نقد الثمن من مال الشركة فهو للشركة اهـ لكن اعترض بأنه لم يستند لنقل فلا يعارض ما في المحيط.

وقد يجاب بحمله على ما إذا لم يكن من جنس تجارتهما تأمل.

    وبقي شيء آخر يقع كثيرا، وهو ما لو اشترى أحدهما من شريكه لنفسه هل يصح أم لا لكونه اشترى ما يملك بعضه. والذي يظهر لي أنه يصح؛ لأنه في الحقيقة اشترى نصيب شريكه بالحصة من الثمن المسمى وإن أوقع الشراء في الصورة على الكل.

الدر المختار - (5 / 690) ط سعيد

( وتتم ) الهبة ( بالقبض ) الكامل ( ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها وإن شاغلا لا

الفتاوى الهندية - (4 / 392) ط رشيدية

وإذا وهب لابنه وكتب به على شريكه فما لم يقبض لا يملكه ولو دفع إلى ابنه مالا فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة على التمليك كذا في الملتقط.

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق غَفَرَاللہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی جھنگ