26 Sep, 2020 | 8 Safar, 1442 AH

Question #: 2645

July 11, 2020

کیا بدعتی امام کے پیچھے نماز پڑھنے والے کی نماز ہو جائے گی؟

Answer #: 2645

کیا بدعتی امام کے پیچھے نماز پڑھنے والے کی نماز ہو جائے گی؟

الجواب حامدا ومصلیا

کسی بدعتی کے عقیدے میں اگر شرک نہ ہو تو اس   کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی ہے۔ لیکن صحیح العقیدہ امام کی اقتدا میں نماز کی ادائیگی کی صورت ہو تو بدعتی کی اقتدا میں نماز نہیں ادا کرنی چاہیے، اور اگر صحیح العقیدہ امام کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کی صورت نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا تنہا نماز ادا کرنے سے بہتر ہے، نیز اس کی اقتدا میں پڑھی گئی نماز کے اعادے کا حکم نہیں ہے۔ تاہم نیک صالح متقی امام کی اقتدا میں نماز کا اجر اس سے حاصل نہیں ہوگا۔  اور اگر بدعتی کے عقیدے میں شرک ہو تو اس کے پیچھے نماز ہی نہیں ہوگی۔

قال الحصکفي:

"و یکره إمامة العبد ... و مبتدع، أي: صاحب بدعة، و هي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول ... لایکفر بها ... وإن کفر بها، فلایصح الاقتداء به أصلاً".

قال ابن عابدین:

"(قوله: وهي اعتقادالخ) عزا هذا التعریف في هامش الخزائن إلی الحافظ ابن حجر في شرح النخبة، ولایخفی أن الاعتقاد یشمل ما کان معه عمل أو لا؛ فإن من تدین بعمل لا بد أن یعتقده ..."الخ

(الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۲۵۴۔۔۲۵۷، ط: دار إحیاء التراث العربي، بیروت)

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غَفَرَاللّٰہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

‏23‏ محرّم‏، 1442ھ

‏12‏ ستمبر‏، 2020ء