23 Jul, 2021 | 13 Dhul Hijjah, 1442 AH

Question #: 2833

July 04, 2021

زید نے ایک گھر یا پلاٹ عمر سے ایک لاکھ روپے میں خریدا اور اسے پچاس ھزار روپے ٹوکن دے دیا اور اس سے اسٹام لکھوا لیا اور باقی پچاس ھزار کے لئے دو مہینے کی مہلت مانگ لی اور اس دوران یعنی ایک مہینے بعد زید نے اس پلاٹ یا مکان کو بکر کو ایک لاکھ بیس ھزار میں بیچ دیا اور باقی رقم عمر کو دے دی اور کہا کہ یہ پلاٹ یا گھر بکر کو ٹرانسفر کر دو کیا اس طرح خریدوفروخت کرنا جائز ھے یا زید نے پوری قیمت دے کر عمر سے پلاٹ خریدا اور اسٹام پیپر پر اس بیع کو لکھ لیا لیکن اپنے نام ٹرانسفر یا انتقال نہیں کیا اور اس پلاٹ کو بکر کو بیچ دیا اور عمر سے کہا کہ یہ پلاٹ بکر کے نام ٹرانسفر کر دو تو کیا یہ صورت جائز ھو گی یا اس کے علاؤہ موجودہ دور میں پراپرٹی کی خریدوفروخت کی کوئی جائز صورت ھو تو وہ بھی بتا دیں جزاک اللہ خیرا

Answer #: 2833

الجواب حامدا ومصلیا

صورت مسؤلہ میں  پلاٹ وغیرہ کو خریدنے کے بعد ، انتقال کرانے سے پہلے کسی اور آدمی کو بیچنا جائز ہے بشرطیکہ وہ پلاٹ اور گھر  متعین ہو، صرف فائل کو نہ بیچا جا رہا ہو  اور زید نے گھر  پر قبضہ کرلیا ہو۔

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق غَفَرَاللہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ