30 Jun, 2022 | 30 Dhul Qadah, 1443 AH

Question #: 2507

October 16, 2019

Assalamu alaikum wr wb Kya madarse mei jaha ghareeb bachhe hote hain waha mai unko khana khila kr qasam ka kaffara adaa kar sakti hu?or miskeen hone ki kya kya sharayt hain? Or jo mangney wale ghareeb faqeer aate hain kya unko khana khilane se kaffara adaa ho jayega? Ya madrse ke ghareeb bacho ke kapde bana kr de skti hu ya uski qeemat?

Answer #: 2507

الجواب حامدا ومصلیا

قسم کا کفارہ یہ ہے کہ  دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار کے بقدر گندم یا اس کی قیمت دے دے( یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی رقم )اور اگر ’’جَو‘‘ دینا چاہتا  ہے تو اس کا دو گنا (تقریباً ساڑھے تین کلو) دے،  یا دس فقیروں کو  ایک ایک جوڑا کپڑا پہنا دے۔ اور اگر  کوئی ایسا غریب ہے کہ نہ تو کھانا کھلا سکتا ہے اور نہ کپڑا دے سکتا ہے تو مسلسل تین روزے رکھے ،اگر الگ الگ کر کے تین روزے پورے کر لیے  تو کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ اگر دو روزے رکھنے کے بعد درمیان میں کسی عذر کی وجہ سے ایک روزہ چھوٹ گیا تو اب دوبارہ تین روزے رکھے۔

مسکین اصطلاحاً اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو اور بالکل بدحال ہو تاہم جس شخص کے پاس تھوڑا بہت ہو لیکن وہ شخص نصاب کا مالک نہ ہو اور محتاج ہو اس کو بھی مسکین کہتے ہیں۔

مانگنے والے فقیر اگر واقعتاً مسکین اور غریب ہیں ، تو ان کو کھانا کھلانے سے کفارہ ادا ہوجائے گا، تاہم پیشہ ور بھیک مانگنے والے اکثر غریب نہیں ہوتے، اس لیے ان کو قسم کا کفارہ ادا  کرنے سے احتیاط کی جائے۔

مدرسہ کے غریب بچوں کو کپڑے  بنا کردینے  سے بھی کفارہ ادا ہوجائے گا۔

وقال الله تعالي:

﴿ لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ وَلكِنْ يُؤاخِذُكُمْ بِما عَقَّدْتُمُ الْأَيْمانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعامُ عَشَرَةِ مَساكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمانِكُمْ إِذا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمانَكُمْ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آياتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ (المائدة: 89)

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غَفَرَاللّٰہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ