22 Mar, 2019 | 15 Rejab, 1440 AH

Question #: 2376

February 19, 2019

موت كا دن 25 اكتوبر 2018 وقت اشراق كونسى تاريخ كو عدت مكمل هو كى اور كس وقت تك جزاك الله خيرا

Answer #: 2376

الجواب حامدا ومصلیا

بیوہ کو حمل نہ ہونے کی صورت میں اگرشوہر کا انتقال چاند کی پہلی تاریخ کو ہوا ہو  تو  عدت چار ماہ دس دن چاند کے  مہینوں  سے  پوری  کی جائے گی  ۔ خواہ قمری  مہینہ 29 کا ہو یا  30 کا  ہو۔ اور اگر  شوہر کا انتقال پہلی تاریخ کے  سوا کسی اور  تاریخ کو  ہوا ہو تو   ہر مہینہ تیس تیس دن کا شمار کرکے عدت   چار ماہ دس دن   ( 130دن)    پورے کرنے ہوتے ہیں۔ اور عدت کے  دنوں  کا شمار انتقال کے  وقت سے  کیا جاتا ہے  اور انتقال کے وقت پر ختم کیا جاتا ہے اور اگر بیوہ حاملہ ہے تو اس کی عدت وضعِ حمل ہے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی اس کی عدت ختم ہو جائے گی۔

الهداية شرح البداية : (2/ 30)

وإبتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق وفي الوفاة عقيب الوفاة فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة.

وکذا فی احسن الفتاوی :  (  5 /  450 ) وفی  جامع الفتاوی : ( 10 / 242)   وفی دار العلوم دیوبند :  (10 /  185).

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۱ ، جمادی الثانی ، ۱۴۴۰ھ

27 ، فروری ، 2019ء