17 Jul, 2019 | 14 Dhul Qadah, 1440 AH

Question #: 2418

April 12, 2019

1.agar train me wazu karne ki liye jane ki jagah na ho to kya TAYYAmum se namaaz padh sakte h or tayyamum kis cheez se kare jab k travel kar rhe ho2.jin namazo ko (travel ke doraan)dobara padhna ho to unme namaazo ki niyat qaza kare ya ada kare maslan mai zohr ki2 rakat qaza padhti ho ya zohr ki namaaz padhti ho3.musafir apni namaaz ko qasr kab se kare Shaher ki abadi se bahar nikalne se Murad kya dusra shaher aa jae tab kare JAZAKALLA

Answer #: 2418

1 . اگر ٹرین میں وضو کرنے کے لیے جانے کی جگہ نہ ہو تو کیا تیمم سے نماز پڑھ سکتے ہیں اور تیمم کس چیز سے کریں جب کہ سفر کر رہے ہوں

2 . جن نمازوں کو ( سفر كے دوران ) دوبارہ پڑھنا ہو تو اُن میں نمازوں کی نیت قضا والی کرے یا ادا  والی، مثلاً میں ظہر کی2 رَکْعَت قضا پڑھتی ہوں یا ظہر کی نماز پڑھتی ہوں

3 . مسافر اپنی نماز کو قصر کب سے کرے؟  شہر کی آبادی سے باہر نکلنے سے مراد کیا  ہے؟ کیادوسرا شہر آ جائے تب  نیت کرے؟ جزاک اللہ

الجواب حامدا ومصلیا

1-    ٹرین میں اگر پانی موجود ہو اور رش کی وجہ سے وضو کرنے کی لیے جانے کی جگہ نہ ہو تو اس صورت میں تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ اس بارے میں شہیدِ اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’سفر میں بعض پکے نمازی بھی نمازیں قضا کر دیتے ہیں، عذر یہ ہے کہ ایسے رش میں نماز کیسے پڑھیں؟یہ بڑی کم ہمتی اور غفلت کی بات ہے اور پھر ریل میں کھانا پینا اور دیگر طبعی حوائج کا پورا کرنا بھی تو مشکل ہوتا ہے، لیکن مشکل کے باوجود ان طبعی حوائج کو بہر حال پورا کیا جاتا ہے، آدمی ذرا سی ہمت سے کام لے تو مسلمان کیا، غیر مسلم بھی نماز کے لیے جگہ دے دیتے ہیں اور سب سے بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ حج کے مقدس سفر میں بھی نماز کا اہتمام نہیں کرتے، وہ اپنے خیال میں تو ایک فریضہ ادا کرنے جا رہے ہیں، مگر دن میں خدا کے پانچ فرض غارت کر دیتے ہیں، حاجیوں کو یہ اہتمام کرنا چاہیے کہ سفرِ حج کے دوران ان کی ایک بھی نماز باجماعت فوت نہ ہو، بلکہ ریل میں اذان واقامت اور جماعت کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔‘‘

(آپ کے مسائل اور ان کا حل: مسافر کی نماز، ریل گاڑی میں نماز کس طرح ادا کی جائے؟: 4/100)

رش کی صورت میں ٹرین میں نماز ادا کرنے  کے لیے وضو  کی حتی المقدور کوشش کرنی چاہیے، مثلا

الف۔۔۔سب سے پہلے گھر سے ہی وضو کرلیں تاکہ سفر میں نماز پڑھنا آسان ہو۔

 ب۔۔۔ وضو کے لیے کسی بوتل ، گیلن وغیرہ میں پانی اپنے ہمراہ رکھیں، تاکہ بوقتِ ضرورت وضو کیا جا سکے۔ یا  اپنے محرم مرد  کے ذریعہ سے  بوتل  میں پانی منگوالیں ،  پھر اپنی جگہ پر  بہت مختصر پانی استعمال کرکے وضو   لیں۔ 

ج۔۔۔اس کی ایک بہترین صورت تبلیغی جماعت والوں کو (بالخصوص محرم مستورات کی جماعتوں کو)اختیار کرتے دیکھا گیا کہ اپنے ہمراہ سپرے والی بوتل (جو حجام حضرات حجامت کے وقت بال وغیرہ گیلے کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں)پانی کی بھر کر رکھتے ہیں، پھر ایک شخص دوسرے کے اعضائے وضو پر پانی کا سپرے اس حد تک کرتا ہے کہ اعضائے وضو سے پانی کے قطرے گرنا شروع ہو جاتے ہیں، وضو کرنے والا اپنے اعضائے وضو کو اچھی طرح مَل لیتا ہے، اس طرح بہت کم پانی میں نہایت سہولت کے ساتھ وضو ہو جاتا ہے، نیچے کیچڑ وغیرہ کا بھی زیادہ اندیشہ نہیں ہوتا اور اندیشہ ہو بھی تو نیچے کوئی بالٹی، برتن یا کپڑا وغیرہ رکھ لیا جائے ، تو یہ مسئلہ بھی باقی نہیں رہتا، تاہم اس طریقے کے اختیار کرنے میں یہ ضروری ہے کہ اعضائے وضو سے پانی ٹپکنے والی صورت بن جائے، ورنہ محض گیلا ہاتھ پھیرنے سے وضو نہیں ہو گا، اس صورت کے اختیار کرنے میں مستورات کے لیے بھی بہت بڑی سہولت ہے کہ وضو کے لیے انہیں زیادہ پریشان نہیں ہونا پڑتا۔

2-  جس نماز کو ( سفر كے دوران  پڑھنے کے بعد ) دوبارہ پڑھنے کا حکم ہے، اگر وہ اپنے وقت پر پڑھ رہا ہے تو ادا والی نیت کی جائے گی، اگر وقت کے گزرجانے کے بعد پڑھ رہا ہے تو  قضا  والی نیت کی جائے گی۔

3- اپنے شہر کی آبادی سے  نکلنے کے بعد قصر نماز پڑھے گا۔جب تک آبادی کے اندر ہے  قصر نماز نہیں پڑھے گا ، بلکہ پوری نماز پڑھے گا۔  اور شہر کی آبادی سے باہر نکلنے سے یہی مراد ہے، دوسرا شہر آنا مراد نہیں ہے۔

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

16 ، شعبان ، 1440ھ

22 ، اپریل ، 2019ء