29 Jan, 2023 | 7 Rajab, 1444 AH

Question #: 3045

November 09, 2022

السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ یوٹیوب چینل اور فیس بک کی آمدنی جائز ہے کیا ؟جبکہ مواد بھی شرعی ہو گا۔ دوسری فقیرانہ درخواست۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کی ویب سائٹ تصوف ڈاٹ کو کے کلپس یا مکمل بیانات اپنے چینل اور فیس بک پیج پر دکھا سکتے ہیں اجازت ہے کیا ؟ والسلام جزاکم اللہ خیرا

Answer #: 3045

الجواب حامدا ومصلیا

  1. یوٹیوب، فیس بک وغیرہ پر ویڈیوز کے ذریعہ سے آمدنی چند شرائط کی رعایت کے ساتھ جائز ہے:

۱۔۔۔ویڈیوز اور اس پر چلنے والے اشتہارات، خواتین کی تصاویر، میوزک اور دوسرے شرعی منکرات پر مشتمل نہ ہوں، یا اشتہارات جن کمپنیوں کے ہیں ان کمپنیوں کا کاروبار حلال ہو، مثلاً یہ اشتہار فلموں ،سودی بینکوں اور انشورنس کمپنیوں اور شراب کی کمپنیوں کے نہ ہوں  ۔

۲۔۔۔جو ویڈیوز اپلوڈ کی جائیں، وہ صرف جائز اور فائدہ مند معلومات پر مشتمل ہوں۔

۳۔۔۔اگر ویڈیوز میں کسی کاروبار یا کسی اسکیم کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہو، تو وہ کاروبار یا اسکیم جائز ہونا چاہیے۔

لہذا اگر ان شرائط کی رعایت رکھی جائے، تو پھر اس کے ذریعہ سے کمائی جائزہے۔ لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ مروجہ اشتہارات میں عموماً مذکورہ شرائط  کی رعایت نہیں کی  جاتی، اس لیے حتی الامکان مذکورہ کاروبار (یوٹیوب چینل اور فیس بک کی آمدنی) کو ذریعہ معاش بنانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

  1.  یہ  درخواست تصوف ڈاٹ کو پر ہی ارسال کریں اور وہاں سے ہی اجازت حاصل  کریں۔

فقه  البیوع:  (1/ 325)

ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنا في برامج لاتخلو من محظور شرعي، وعامة المشترين يشترونه لهذه الأغراض المحظورة من مشاهدة الأفلام والبرامج الممنوعة، إن كان هناك من لا يقصد به ذلك. فبما أن غالب استعماله في مباح ممكن فلا نحكم بالكراهة التحريمنية في بيعه مطلقا، إلا إذا تمحض لمحظور، ولكن نظرا إلى أن معظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية . وعلى هذا فينبغي أن يتحوط المسلم في اتخاذ تجارته مهنة له في الحالة الراهنة إلا إذا هيأ الله تعالی جوا يتمحض أو يكثر فيه استعماله المباح.

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق غَفَرَاللہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ