16 Jun, 2019 | 12 Shawwal, 1440 AH

Question #: 2435

May 03, 2019

ASA, Muufti shab mujhe Istekhara ke asal haqeeqat oor tareeqa k baray main janna hai. or agar khwaab mai koe dekhe k galay main 2 soiyan phansi hain, or madad k liye ksi ko bula rahe ho, tu iska kea matlb hua

Answer #: 2435

الجواب حامدا ومصلیا

1.    کسی مباح اوراہم کام کے بارے میں انسان کشمکش میں مبتلاہوکہ یہ کام کروں یانہ کروں تو ایسے موقع پر استخارہ اورمشورہ کرناشرعاًمسنون اوردنیااورآخرت میں باعثِ برکت ہے ،اورقرآن وحدیث میں دونوں کی بہت ترغیب آئی ہے ،چنانچہ استخارہ کے بار ے میں ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ:

 من سعادة ابن آدم استخارته الله ورضاه بما قضى الله عليه، ومن شقاوة ابن آدم تركه استخارة الله، وسخطه بما قضى الله عز وجل

یعنی ابن آدم کی خوش نصیبی اورسعادت مندی ان کااللہ تعالی سے خیرمانگنا(استخارہ کرنا) ہے اوران پراللہ نے جوفیصلہ فرمایاہے اس پرراضی رہناہے اوراولادآدم کی بدبختی اور بدنصیبی اللہ سے خیرطلب کرنے کاچھوڑدینااوراللہ کے فیصلہ پرناراض ہوناہے۔ (شعب الايمان للبیہقی ۱:۲۱۹)

استخارہ سے جوکام  کیا جائے انشاء اللہ دوسری صورتوں کے مقابلے میں اس صورت میں خیر وبرکت غالب ہوگی،کیونکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ:

ما خاب من استخار ولا ندم من استشار ولا عال من اقتصد

یعنی وہ شخص نامرادنہیں ہوسکتاجس نے استخارہ کیاوہ شخص نادم وشرمندہ نہیں ہوسکتاجس نے مشورہ کیااوروہ شخص محتاج نہیں ہوسکتاجس نے میانہ روی اختیار کی۔(المعجم الصغيرللطبرانی۲؛۱۷۵).

استخارہ کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے دو رکعت نفل نماز پڑھ لے، اس کے بعد خوب دل لگاکر یہ دعا پڑھے:

اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُيُوب. اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ "هَذَا الأَمْرَ"خَيْرٌ لِى فِى دِينِى وَمَعَاشِى وَعَاقِبَةِ أَمْرِى فَاقْدُرْهُ لِى وَيَسِّرْهُ لِى وَبَارِكْ لِى فِيهِ. اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ أَنَّ "هذَا الْأَمْرَ" شَرٌّ لِي فِي دِینِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْنِى عَنْهُ وَاصْرِفْهُ عَنِّى وَاقْدُرْ لِىَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِى بِهِ ».

جب "ہذا الأمر" پر پہنچیں جس لفظ لفظ کے نیچے لکیر بنی ہوئی ہے تو اس کے پڑھتے وقت اسی کام کا دھیان وخیال کرلے، جس کے لیے استخارہ کرنا چاہتے ہیں، اس کے بعد پاک وصاف بچھونے پر قبلہ کی طرف منھ کرکے باوضو سوجائیں، جب سوکر اٹھیں اس وقت جو بات دل میں مضبوطی سے آئے وہی بہتر ہے،اسی کو کرنا چاہیے۔ اگر ایک دن میں کچھ معلوم نہ ہو اور دل کا خلجان اور تردّد نہ جائے تو دوسرے دن پھر ایسا ہی کرلے، اسی طرح سات دن تک کرے، ان شاء اللہ تعالیٰ ضرور اس کی اچھائی برائی معلوم ہوجائے گی۔ (بہشتی زیور)۔

 استخارہ سے دو فائدے حاصل ہوتے ہیں:

1-       ایک دل کا کسی ایک جانب متفق ہوجانا۔

2-       جس کام میں خیر ہوتی ہے، اس کے اسباب کا میسر ہوجانا۔ خواب میں کسی چیز کا آجانا، یا اشارہ مل جانا ضروری نہیں۔

             صورت مسؤلہ میں آپ مذکورہ بالا طریقہ کے مطابق دوبارہ استخارہ کرلیں اور اس کے بعد خیر خواہ تجربہ کار سے مشورہ کرلینا چاہیے، مشورہ کرنے کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ خوداللہ رب العلمین نے حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کویہ حکم دیتے ہوئے فرمایا:

وشاورهم فی الامر

اوران سے اہم معاملات میں مشورہ لیتےرہو(سورة الشوری آيت ۱۵۹)

اورایک دوسری حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایاکہ :

من أراد أمرا فشاور فيه وقضى لله هدي لأرشد الأمور

یعنی جوشخص کسی کام کاارادہ کرے اورباہم مشورہ کرنے کے بعد اس کے کرنے یانہ کرنے کافیصلہ کرے تواللہ تعالی کی طرف سے اس کوصحیح اورمفیدصورت کی طرف ہدایت ملتی ہے(شعب الایمان للبیہقی۷۵:۶)

رات کو استخارہ کی نیت سے دعا کرکے سونابھی جائز، بلکہ مستحسن ہے، لیکن اس کے بعد بھی اپنے بڑوں اور تجربہ کار خیرخواہ لوگوں سے مشورہ کرلینا چاہیے۔

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

‏11‏ رمضان‏، 1440ھ

‏16‏ مئی‏، 2019ء