27 Jan, 2022 | 23 Jumada Al-Akhirah, 1443 AH

Question #: 2881

December 05, 2021

اسلام علیکم سکول کی اسمبلی میں قرآن کی تلاوت کرتے وقت طاباء جوتے پہنے ہوئے ہوتے ہیں ۔۔۔ کیا یہ جائز ہے ؟؟؟ 2۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ سکول میں قرآن پاک کا ترجمہ پڑ ھاتے ہیں قرآن کے پارہ سے ۔۔۔ وہاں کے استادہ کہتے ہیں کہ بغیر وضو پڑھ لیا کرو کیا یہ جائز ہے ؟؟ جب کہ طلباء عاقل و بالغ ہوں ؟؟؟ 3 جوتے پہنے ہوئے قرآن کی تلاوت کرنا کیسا ہے ؟؟؟

Answer #: 2881

الجواب حامدا ومصلیا

1،3۔۔۔ جوتے پہن کر قرآن کریم کی تلاوت کرنا جائز ہے۔

2۔۔۔ بغير وضو كے قرآن كريم کو چھوئے بغیر اس  كی تلاوت  کرنا اور ترجمہ  کرنا جائز ہے اور بغیر وضو کے قرآنِ کریم کو  اور اس کے ترجمہ کو چھونا جائز نہیں ہے۔

 سورہ واقعہ کی آیت: {لَايَمَسُّهٗٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ} ترجمہ: ’’جسے بغیر پاکوں کے اور کوئی نہیں چھوتا‘‘  کی تفسیر میں حضر ت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ قرآن سے مراد وہ مصحف ہے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے اور مطہرون سے مراد وہ لوگ ہیں جو نجاست ظاہری اور معنوی یعنی حدث اصغر و اکبر سے پاک ہوں ، حدث اصغر کے معنی بے وضو ہونے کے ہیں ، اس کا ازالہ وضو کرنے سے ہو جاتا ہے اور حدث اکبر جنابت اور حیض و نفاس کو کہا جاتا ہے جس سے پاکی کے لئے غسل ضروری ہے ، یہ تفسیر حضرت عطاء، طاؤس ، سالم اور حضرت محمد باقر سے منقول ہے (روح المعانی) اس صورت میں جملہ’’لا یمسہ‘‘  اگرچہ جملہ خبریہ ہے، مگر اس خبر کو بحکمِ انشاء یعنی نہی و ممانعت کے معنی میں قرار دیا جائے گا اور مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ مصحف قرآن کو چھونا بغیر طہارت کے جائز نہیں اور طہارت کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ ظاہری نجاست سے بھی اس کا ہاتھ پاک ہو اور بے وضو بھی نہ ہو اور حدث اکبر یعنی جنابت بھی نہ ہو ، قرطبی نے اسی تفسیر کو اظہر فرمایا ہے، تفسیر مظہری میں اسی کی ترجیح پر زور دیا ہے۔

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ  کے اسلام لانے کے واقعہ میں جو مذکور ہے کہ انہوں اپنی بہن کو قرآن پڑھتے ہوئے پایا تو اوراق قرآن کو دیکھنا چاہا ، ان کی بہن نے یہی آیت پڑھ کر اوراق قرآن ان کے ہاتھ میں دینے سے انکار کیا کہ اس کو پاک لوگوں کے سوا کوئی نہیں چھو سکتا، فاروق اعظم نے مجبور ہو کر غسل کیا، پھر یہ اوراق پڑھے، اس واقعہ سے بھی اسی آخری تفسیر کی ترجیح ہوتی ہے اور روایات حدیث جن میں غیر طاہر کو قرآن کے چھونے سے منع کیا گیا ہے، ان روایات کو بھی بعض حضرات نے اس آخری تفسیر کی ترجیح کے لیے  پیش کیا ہے۔

اگرچہ بعض حضرات نےاس آیت میں ”مطھرون“ سے مراد فرشتے لیے ہیں، لیکن مفسرین کی اکثر یت نے عموم الفاظ اور احادیث نبویہ ﷺ کے پیش نظراس سے انسان مراد لیے ہیں۔ ملا جیون رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

الأکثر علی أنه نفی بمعنی النهی، وأن الضمیر المنصوب راجع الی القرآن ... أی: لا یمس ھذا القرآن الا المطھرون من الأحداث فلا یمسه المحدث و الجنب و لا الحائض و لا النفساء.

[تفسیرات احمدیہ: ۶۸۳ سورۃ الواقعۃ]

کہ اکثر مفسرین کا موقف یہ ہے کہ یہاں نفی نہی کے معنی میں ہے اور ضمیر منصوب قرآن کی طرف راجع ہے، یعنی اس قرآن کو وہی لوگ چھوئیں جو احداث سے پاک ہوں۔ لہذا قرآن کو بے وضوء، جنبی، حائضہ اور نفاس والی عورت نہ چھوئیں۔

علامہ ابن عابدين  شامی رحمہ اللہ دونوں احتمال ذکر کرنے کے بعد مندرجہ بالا تفسیر کو اکثر مفسرین کا موقف قرار دیتے ہیں، چنانچہ لکھتے ہیں:

وعلى الثّاني المرادُ منهم النّاسُ الْمُطَهَّرُونَ مِنْ الْأحْدَاثِ وعليْه أَكْثَرُ الْمُفسّرين.

(حاشية ابن عابدين: كتاب الطهارة)

ترجمہ: دوسرے احتمال کے مطابق اس [المطہرون] سے وہ لوگ مراد ہیں جوحدث سے پاک ہوں اور یہی اکثر مفسرین کا موقف ہے۔

حافظ ابو بکر  جصاص رحمہ اللہ نے اسی تفسیر کو راجح قرار دیا ہے۔ چنانچہ حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

انه کتب فی کتابه لعمرو بن حزم: و لا یمس القرآن الا طاهر، فوجب ان یکون نهیه ذلك بالآية.

(احکام القرآن: ج۳ ص۶۲۱)

ترجمہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک خط میں جو حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ (اہل یمن کو)بھیجا تھا، لکھا :”قرآن کو صرف پاک لوگ ہی چھوئیں“، توعین ممکن ہے کہ آپ کا یہ فرمانا اسی آیت کی وجہ سے ہو۔

2: حضرت عبد الرحمٰن بن یزید سے روایت ہے، فرماتے ہیں:

كُنَّا مَعَ سَلْمَانَ فِي حَاجَةٍ ، فَذَهَبَ فَقَضَي حَاجَتَهُ ثُمَّ رَجَعَ ، فَقُلْنَا لَهُ : تَوَضَّأْ ، يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ لَعَلَّنَا أَنْ نَسْأَلَك عَنْ آيٍ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ : قَالَ : فَاسْأَلُوا ، فَإِنِّي لاَ أَمَسُّهُ ، إِنَّهُ لاَ يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ ، قَالَ : فَسَأَلْنَاهُ ، فَقَرَأَ عَلَيْنَا قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ.

مصنف ابن ابی شیبہ: في الرجل يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ غَيْرُ طَاهِرٍ،مصنف عبدالرزاق ج1ص263رقم1327باب القراءۃ علیٰ غیر وضوء،

کہ ہم حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کام کے سلسلے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ قضاء حاجت کےلیے تشریف لے گئے، جب واپس آئے تو ہم نے عرض کی: (آپ وضوء کر لیں) ہم قرآن کی چند آیات آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: پوچھو! کیوں کہ میں قرآن کو ہاتھ نہیں لگاؤں گا، اسے تو صرف پاک لوگ ہی چھوتے ہیں۔ عبد الرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ ہم نے آپ سے چند آیات پوچھیں تو آپ نے وضوء کرنے سے قبل مطلوبہ آیات پڑھیں۔

اس سے واضح ہوا کہ مس قرآن کے لیے وضوء شرط ہے، البتہ تلاوت قرآن بغیر وضوء کے کی جا سکتی ہے۔

امام حاکم اور امام ذہبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔

مستدرک الحاکم مع التلخیص ج2ص519تفسیر سور ۃالواقعہ

3: حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں روایت کرتے ہیں:

أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ :« وَلاَ يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلاَّ طَاهِرٌ ».

السنن الکبریٰ بیہقی ج1ص87رقم416باب نہی المحدث عن مس المصحف،موطا امام محمد ص163رقم296باب الرجل یمس القرآن وہو جنب او علیٰ غیر طہارۃ

کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اہل یمن کی طرف ایک خط لکھا، جس میں فرائض، سنن اور دیت کے احکامات تھے، یہ خط حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ (اہل یمن کو)بھیجا ،منجملہ اس خط میں یہ بھی لکھا تھا :”قرآن کو صرف پاک لوگ ہی چھوئیں“

4: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں:

لا يمس القرآن إلا طاهر

[المعجم الصغیر للطبرانی ج2ص139حدیث1162،]

کہ قرآن کو صرف پاک لوگ ہی چھوئیں۔

علامہ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کے راویوں کی توثیق کی گئی ہے، یعنی یہ راوی ثقہ ہیں۔

[مجمع الزوائد: ج1ص387باب فی مس القرآن]

5: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں مروی ہے:

أَنَّهُ كَانَ لاَ يَمَسُّ الْمُصْحَفَ إِلاَّ وَهُوَ طَاهِرٌ

[مصنف ابن ابی شیبہ ج2 ص256 رقم7506باب فی الرجل علی غیر وضوء والحائض یمسان المصحف]

کہ آپ مصحف کو صرف پاک ہونے کی حالت میں چھوتے تھے۔

ان دلائل سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید کو چھونے کے لیے پاک ہونا ضروری ہے۔ جمہور امت کا یہی موقف ہے۔ مدینہ منورہ کے سات فقہاء [فقہاء سبعہ]کا بھی یہی موقف ہے۔

[السنن الکبریٰ للبیہقی: ج۱ ص۸۸، باب نہی المحدث عن مس المصحف]

حضرت علی، حضرت ابن مسعود، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید، امام عطاء، امام زہری، امام ابراہیم نخعی، امام حکم، امام حماد یہی موقف ہے ۔ البحوث العلمیۃ: ج۶ ص ۲۷۵، من احکام القرآن الکریم

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق غَفَرَاللہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ