04 May, 2024 | 25 Shawwal, 1445 AH

Question #: 3220

August 31, 2023

سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں۔ ایفیلیٹ مارکیٹنگ (Affiliate Marketing) ایک آن لائن ذریعہ آمدنی ہے، جو شخص اس بزنس سے منسلک ہوتا ہے اس کو اصطلاح میں ایفیلیٹر (واسطہ) کہتے ہیں۔ اس میں Affiliator کا کام دکاندار کے سامان کو کسی بھی ذریعے سے (جو وہ اختیار کر سکتا ہے) بیچنا ہوتا ہے۔ گویا کہ Affiliated شخص صاحب مال اور خریدار کے درمیان واسطہ بنتا ہے۔ اس کے بدلے میں صاحبِ مال ایفیلیٹر کو اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔ جیسے کہ اس وقت Amazon اور Flipkart ایفیلیٹ مارکیٹنگ کے دو بڑے اور مشہور پلیٹ فارمز ہیں۔ اسی طرح کا ایک پروگرام Youth India Earning Program ((YIEP))نے بھی شروع کیا ہے، مگر ان کے پاس کوئی فزیکل (حسی) صورت میں سامان نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ان لائن کورس ہے، جس میں مارکیٹنگ کے حوالے سے بہت ساری چیزیں وڈیوز کے ذریعے سکھائی جاتی ہیں۔ نیز مختلف اوقات میں آن لائن میٹنگز بھی ہوتی ہیں، جن کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے۔ یعنی کہ وڈیوز کی شکل میں یہ ایک تعلیمی کورس ہے جس کو خریدنے والا شخص ان وڈیوز اور ہفتہ واری میٹنگز کے ذریعے مارکیٹنگ سیکھتا ہے۔ اس کو خریدنے کے لیے کمپنی میں رجسٹریشن کی ضرورت ہوتی ہے جو بالکل فری ہے۔ البتہ کورس کی قیمت اس کو ادا کرنی ہوتی ہے، جس کے بغیر رجسٹریشن ممکن نہیں ہے۔ خریدنے کے بعد جب اس نے سیکھ لیا تو اب اس کا کام اس کورس (جو اس نے رجسٹریشن کے وقت خریدا تھا) کو آگے دوسرے لوگوں کو فروخت کرنا ہوتا ہے، اور یہی اس کی کمائی کا ذریعہ ہے۔ آمدنی کا طریقہ کار: کورس بیچنے کے عوض کمپنی بائع کو منافع دیتی ہے جو کورس کی اصل قیمت کا 98٪ فیصد ہوتا ہے۔ مثلاً کورس کی قیمت 508 روپے اور GST شامل کر کے 599 روپے ہوتی ہے، اگر زید یہ کورس حامد کو فروخت کرتا ہے تو کمپنی اس کو 400 روپے منافع دیتی ہے۔ نیز اگر حامد پھر کسی دوسرے شخص (شاکر) کو بیچتا ہے تو 400 روپے حامد کو اور ایک سو روپے زید کو ملتے ہیں اور بس۔ اس کے بعد اگر "شاکر" کسی تیسرے شخص کو فروخت کرتا ہے تو منافع صرف شاکر اور حامد کو ملے گا، زید کو نہیں۔ اس میں کمپنی کو کیا نفع ہے یہ تو سمجھ میں نہیں علاوہ ہر ایفیلیٹر سے 8 روپے کے جو ظاہراً سمجھ میں آتا ہے۔

Answer #: 3220

الجواب حامدا ومصلیا

صورت مسئولہ میں  جب زید یہ کورس حامد کو فروخت کرتا ہے تو کمپنی زید کو 400 روپے  کمیشن(منافع ) دیتی ہے  تو یہ جائز  ہے اور یہ گاہک تلاش کرنے کی اجرت کہلائے گی ۔  لیکن جب یہ کورس حامد  شاکر کو فروخت کرتا ہے اور اس پر زید کو جو کمیشن ملتا ہے ، وہ جائز  نہیں ہے، چونکہ معاملے کا ایک جز غیرشرعی ہے، اس لیے ایسا معاملہ کرنا ہی درست نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 560)

وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.

 (قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 231)

 إذا باع الدلال مالا بإذن صاحبه تؤخذ أجرة الدلالة من البائع ولا يعود البائع بشيء من ذلك على المشتري لأنه العاقد حقيقة وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا لأنه لا وجه له أما إذا كان الدلال مشى بين البائع والمشتري ووفق بينهما ثم باع صاحب المال ماله ينظر فإن كان مجرى العرف والعادة أن تؤخذ أجرة الدلال جميعها من البائع أخذت منه أو من المشتري أخذت منه أو من الاثنين أخذت منهما  أما إذ باع الدلال المال فضولا لا بأمر صاحبه فالبيع المذكور موقوف ويصبح نافذا إذ أجاز صاحب المال وليس للدلال أجرة في ذلك لأنه عمل من غير أمر فيكون متبرعا.

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق غَفَرَاللہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ