08 Dec, 2021 | 3 Jumada Al-Awwal, 1443 AH

Question #: 2835

July 06, 2021

السلام و علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ محترم مفتی صاحب اس بات کی وضاحت فرما دیجئے اگر ایک شخص کی آمدنی فوڈ ڈلیوری کے ذریعے سے ہوتی ہے یہ فوڈ کمپنی اور ڈلیوری غیر مسلم ملک میں ہو جس میں مختلف ریستوران سے فوڈ ڈلیوری کی جاب آتی ہو جن میں کچھ سرٹیفائد حلال ہوتے ہیں جبکہ کچھ حلال سرٹیفائد نہیں ہوتے اورپورک و غیر حلال ذبیحہ کا گوشت سرو کرتے ہیں ایسی صورت میں ہو نے والی آمدنی کی وضاحت فرما دیجئے حلال ہوگی یا نہیں جزاک اللہ خیرا کثیر ا

Answer #: 2835

الجواب حامدا ومصلیا

واضح رہے کہ حرام کام میں تعاون بھی گناہ کا سبب ہوتا ہے یہاں تک کہ شراب پینے والے کے ساتھ احادیث مبارکہ میں پلانے والے، اسے بنانے والے اور اسے اٹھا کر پہنچانے والے پر بھی اللہ کی لعنت کا ذکر ہے؛ لہذا حرام اشیاء کی ڈیلیوری کے بدلہ جو پیسے آپ کو ملتے ہیں، وہ ناجائز ہے۔،  حرام اشیاء کی ڈیلیوری پر حاصل ہونے والی رقم بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کرنا ضروری ہے۔ تاہم جو پیسے حلال اشیاء کی ڈیلوری کے عوض ملے ہوں، ان کا استعمال جائز ہے۔

آپ  جس ادارے میں جاب کرنا چاہتے ہیں  ہے اس کی انتظامیہ سے درخواست کریں کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے آپ کے لیے حرام اشیاء کی ڈیلیوری ممکن نہیں ہے، وہ ایسے آرڈر آپ کے حوالے نہ کریں۔

سنن أبي داود (3 / 326):

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لعن الله الخمر، وشاربها، وساقيها، وبائعها، ومبتاعها، وعاصرها، ومعتصرها، وحاملها، والمحمولة إليه»".

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق غَفَرَاللہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ