23 Jul, 2021 | 13 Dhul Hijjah, 1442 AH

Recent Fatwas by Mahad

July 10, 2021

اسلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میں ریاض سعودیہ کا رہائشی ہوں اور جدہ کے ایک ایجنٹ کے ذریعے حج کی بُکنگ کروائ ہے ۔ 6 ذوالحج کو ریاض سے مدینہ منورہ پہنچنا ہے اور 7 ذوالحج کو مدینہ منورہ ہوٹل سےفقط احرام باندھ کر نیت کیئے بغیر ایجنٹ کے پاس جدہ پہنچنا ہے اور جدہ سے حج افراد کی نیت کرنی ہے۔ جدہ سے ایجنٹ پورے گروپ کو لے کر ڈائریکٹ مکہ حرم جائے گا اب حرم پہنچ کر میں پہلے طوافِ قدوم رمل کے بغیر کروں گااور واپس بس میں چلا جاؤں گا۔ وہاں سے ہمیں منیٰ لے جایا جائے گا۔ 8 ذوالحج کی ظہر سے لیکر 9 ذوالحج کی فجر تک کا وقت منیٰ میں گزرے گا اور پھر 9 ذوالحج کو فجر پڑھ کر منیٰ سے عرفات جائیں گے اور ظہر اور عصر اپنے اپنے وقت پر قصر پڑھنا ہوں گی اور غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ کے لئیے روانہ ہونا ہے مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشا متصل ادا کرنی ہیں 10 ذوالحج کو فجر کے بعد کھڑے ہو کر دعا مانگنی ہے پھر مزدلفہ سے منیٰ پہنچ کر بڑے شیطان کو 7 کنکریاں مار کر دعا کئیے بغیر واپس آ کر قربانی کرنی ہے اور پھر حلق کروا کر عام لباس میں طواف زیارت رمل کے ساتھ کرنا ہے اور سعی بھی کرنی ہے 11 ذوالحج کو ظہر کے بعد چھوٹے شیطان کو 7 کنکریاں مار کر دعا کرنی ہے پھر درمیانے شیطان کو 7 کنکریاں مار کر دعا کرنی ہے اور پھر بڑے شیطان کو 7 کنکریاں مار کر دعا کیئے بغیر واپس آجانا ہے 12 ذوالحج کو ظہر کے بعد 11 ذوالحج والا عمل دوہرانا ہے ۔ پھر 12 کی شام طواف وداع کرکے حج افراد مکمل ہو جائے گا اور سعی کئیے بغیر واپس ریاض کے لئیے روانہ ہو جانا ہے۔ اگر اس ترتیب میں کچھ کمی ہے یا غلطی ہے تو برائے مہربانی اصلاح فرما دیں جزاک اللہ خیر?

read more

June 25, 2021

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص ملک رحیم الدین 2000ء میں فوت ہوگئے ۔ اس کےورثاءمیں 5 بیٹے ) عمر فاروق،ساجد رحیم،خالد رحیم،آصف رحیم،طارق رحیم ( اور 2 بیٹیاں اور بیوہ تھی اور ان کا تیل اور کھل کا کاروبار تھا۔ بقول خالد رحیم حلفا" والد صاحب کامال تجارت تقریباً2 لاکھ 30 ہزار روپے کا تھا اور ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے نقد رقم تھی ۔اس کے بعد کاروبار چلتا رہا ۔2003ء میں خالدرحیم نے دوسری دکان میں پی۔سی۔او ، کانے، بانس ، موڑھے اور ڈیکوریشن کا کام شروع کیا ۔ میں نے قرض لے کر کاروبار شروع کیا اور والد کے کھل اور تیل کے کاروبار سے کچھ نہیں لیادونوں دکانوں کا کنٹرول میرے پاس ہی تھا اور کیش ایک ہی جگہ اکٹھا ہو تا تھا اور 2005 میں اپنے ذاتی کاروبار سے رقم لے کر 10مرلہ کا پلاٹ لیا اور پراپرٹی کا کام شروع کیا۔اس کو تین بھائیوں خالد ،آصف اور طارق کے نام کروایا ۔پھر اس کو بیچ کر 50 لاکھ میں دوکان خریدی گئی اور اس کو بھی تین بھائیوں خالد ،آصف اور طارق کے نام کروایا۔اور اس دوکان کو 97لاکھ میں بیچا گیا۔ پھر 40 لاکھ کا ایک پلاٹ خرید کر آصف اور طارق کے نام لگوایا جس کو بعد میں 54 لاکھ میں بیچ کر آصف اور طارق نے اپنے بڑے بھائی ساجد رحیم کا حصہ 40 لاکھ میں خرید لیا اور یہ ساری پراپرٹی میری ذاتی ملکیت تھی صر ف نام کروانے کی حد تک آصف اور طارق کا نام شامل کیا۔اور طارق نے جو حصہ بڑے بھائی ساجد اور بہن سے خریدا ہے وہ بھی میرا ہے کیونکہ اس نے میرے پلاٹ کو جو صرف نام کی حد تک اسکا تھابیچ کر قیمت ادا کی تھی۔ اورسرسوں کے تیل کوہلو والا کام اب بھی اُسی طرح موجود ہےاور آصف کی بیوہ کے پاس موجود ہے۔ بقول عمرفاروق والد صاحب کامال تجارت تقریباً13 لاکھ روپے اور نقدرقم 2 لاکھ روپے تھی ۔ ۔جبکہ والد صاحب کے کاروبارد کی رقم سے خالد رحیم نے دوسری دکان میں پی۔سی۔او ، کانے، بانس ، موڑھے اور ڈیکوریشن کامشترکہ کام شروع کیا ۔پھر والد کے کاروبارسے رقم نکال کر 10 مرلہ کا پلاٹ خریدا ۔اس کو تین بھائیوں خالد ،آصف اور طارق کے نام کروایا ۔پھر اس کو بیچ کر 50 لاکھ میں دوکان خریدی گئی اور اس کو بھی تین بھائیوں خالد ،آصف اور طارق کے نام کروایا۔اور اس دوکان کو 97لاکھ میں بیچا گیا۔ پھر 40 لاکھ کا ایک پلاٹ خرید کر آصف اور طارق کے نام لگوایا جس کو بعد میں 54 لاکھ میں بیچا اور مزید پراپرٹی کا کاروبار کیا گیا۔ 1۔لہذا 10 مرلہ کے پلاٹ اور دوکان اور اس کے آگے پراپرٹی کے کاروبار میں سب بہین بھائی شریک ہونگے؟ یا والد نے وفات کے وقت جو رقم اور مال چھوڑا ہے اس میں سب بیٹے اور بیٹیاں وارث ہونگے؟ جو اس میں مزید ترقی ہوئی ہے ۔10 مرلہ کا پلاٹ ، دوکان اور پراپرٹی کی ترقی ہوئی ہے اس کے کاروبار کرنے والے بیٹے ہی مالک ہیں؟ 2۔ 2018ء میں سب بہن بھائی اور بیوہ نے بیٹھ کر مرحوم کی2دوکانوں اور 2 مکان کی قیمت 2کروڈ اور 40 لاکھ روپے لگائی۔فی لڑکا حصہ 40 لاکھ بنا اور فی لڑکی حصہ 20 لاکھ بنا اورخالد ،آصف اور طارق نے ایک بھائی اور دو بہنوں کو رقم ادا کی اور ان کا حصہ برابر برابر خرید لیا ۔ بیوہ آصف، طارق ،خالد کے مطابق اس ڈیل کے وقت سب موجود تھے اور راضی تھے۔عمر فاروق کے بقول میں اس قیمت پر راضی نہیں تھا۔ سب کو حصہ نہیں دیا گیا۔تو اب 2018ء والی رقم کا اعتبار کیا جائے گا یا اب 2021ء میں دوکانوں اور مکانوں کی نئے سرے سے قیمت لگوا کر تقسیم کی جائے گی؟ 3۔قیمت لگاتے وقت والدہ زندہ تھیں اور مجلس میں موجود تھیں لیکن ان کے حصے کی قیمت بھی لگائی گئی تو اس کا کیا حکم ہے؟ 4۔اب ایک بھائی آصف فوت ہو گیا ہے جس کے ورثاء میں ایک بیوہ تین بیٹیاں چار بھائی دو بہنیں ہیں اب والد اور آصف کی وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟ 5۔جو حصہ والد کی جائیداد کا آصف نے زندگی میں بھائی اور بہن سے خریدا تھا کیا وہ بھی تقسیم ہو گااور مکمل تقسیم سے پہلے یہ خرید و فروخت جائز ہے؟ 6۔دونوں مکانوں میں تین بھائیوں نے اپنی مرضی سے کچھ تعمیرات کیں تو کیا اب وہ بھی تقسیم ہو گی یا وہ اسکی قیمت باقیوں سے لیں گے یا وہ اسے اکھاڑ سکتے ہیں؟ 7۔کیا جو بھائی ان مکانوں میں نہیں رہتے رہے وہ دوسروں سے بیس سال کے کرایہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟ 8۔جو بھائی دکان پہ کام کرتے رہے وہ تنخواہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟ 9۔اب تک جو مشترکہ کاروبار سے کچھ ورثاء نے کھایا اور خرچہ کیا اس کا حکم ہے؟ 10۔خالد کہتا ہے کی طارق نے جو حصہ بڑے بھائی ساجد اور بہن سے خریدا ہے وہ بھی میرا ہے کیونکہ تم نے میرے پلاٹ کو جو صرف نام کی حد تک تمہارا تھابیچ کر قیمت ادا کی اور میں تم سے وہ قیمت مانگتا رہا تو کیا خالد کا یہ مطالبہ درست ہے ؟ 11۔آصف نے فوت ہونے سے کچھ عرصہ پہلے سب بہن بھائیوں کو بتا دیا تھا کہ میں نے اپنی جائیداد اپنی بیوی اور بیٹیوں کو دے دی ہے لیکن نام کروانے سے پہلے ہی وہ فوت ہو گئے تو کیا وہ ابھی تک آصف کی ملکیت سمجھی جائے گی اور ورثاء میں تقسیم ہو گی یا نہیں ؟ 12۔دونوں دکانوں کا کیش ایک ہی جگہ جمع ہوتا تھا تو کیا خالد کا بیان درست سمجھا جائے گا کہ میں نے علیحدہ پیسوں سے پلاٹ خریدے حالآنکہ پیسے تو اسی اکٹھے کیش سے لیئے؟ شرعی مسئلہ سے آگاہ فرمائیں۔ بینو اتو جروا?

read more

June 13, 2021

اسلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، میرے چند سوالات ہیں : ( 1 ) بالغ لڑکا اور لڑکی نے ویڈیو کال پر نکاح منعقد کیا ، کیا اِس طرح نکاح ہو گیا ؟ نکاح کا طریقہ یہ تھا : - ویڈیو کال كے اک طرف اکیلی لڑکی بیٹھی ہے اسکے پاس کوئی نہیں ہے اور دوسری طرف لڑکا ہے ( دو گواہ بھی ہے ) لیکن لڑکی نے ان گواہوں کو اپنی نگاہوں سے نہیں دیکھا ، نہ نکاح کرتے وقت اور نہ ہی پہلے یا بَعْد میں ، اسکو صرف لڑکا ویڈیو کال پر نظر آ رہا تھا . "لڑکی نے یہ جملے کہے - میں اپنی ذات آپکے حوالے کرتی ہو اور میں آپ سے نکاح کرنا چاہتی ہو ". . . جواباً لڑکے نے کہا میں نے آپکو اپنے نکاح میں قبول کیا . . . اور لڑکے نے کہا ہاں بھئی ! ! سن لیا ؟ لڑکی کو صرف آواز آئی گواہوں کی کہ سن لیا . . . ( 2 ) نکاح كے کچھ دن بَعْد ہی کسی بات پر ان دونوں میں لڑائی ہوئی جسپر لڑکے نے لڑکی سے کہا کی اگر تم نے فلاں کام کیا ہو تو تمہیں تِین طلاق ہے ، ( چونکہ کافی عرصہ ہو گیا لڑکی کو مکمل میسیج کی تحریر قوی طور پر یاد نہیں ) لیکن اس میں تمہیں تِین طلاق ہو کا ذکر تھا ، مفتیان عزام سے پوچھنا ہے کہ اگر لڑکا اِس طرح کوئی منتک استعمال کرکے تِین طلاق دے تو کیا پڑ جاتی ہے ؟ لڑکی کو کنفیوژن ہے کی منتک کا استعمال ہوا ہے یا صریح طلاق دی گئی تھی . . اب اِس صورت میں کیا حکم ھوگا کیونکہ میسیج محفوظ نہیں ہے اور کشمکش ہے . . . ( لڑکی نے وہ کام کیا تھا اور اس نے اس لڑکے سے کہہ بھی دیا فوراً کی ہاں وہ کام اس سے سرزد ہوا ہے ) . ( 3 ) لڑکا اور لڑکی دونوں ایسی ہی باتیں کرتے رہے اور پِھر جھگڑا ہوا تو لڑکی نے خلع مانگا ، لڑکے نے کہا ویڈیو کال پر بولو کی مجھے آپ سے خلع چاہئے چناچہ لڑکی نے ایسا ہی کیا . لڑکے نے ويڈیو کال پر کہا کہ میں نے تمہیں خلع دیا ، اور میسیج پر لکھ بھیجا کی اب تم آزاد ہو ، ہمارا نکاح ختم ہوا اور میں اللہ کی قسم کھاتا ہو تم سے اب نہ نکاح کرونگا اور نہ تم سے کوئی تعلق . . . اسکے بَعْد اس نے پِھر منتیں کرکے اس لڑکی سے رُجو کرنا چاہا ، لڑکی مان گئی اور دونوں کی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہوا - دوسرے نکاح کا طریقہ یہ تھا : - لڑکی نے وائس میسیج میں کہا میں آپ سے نکاح کرنا چاہتی ہو اور میں نے اپنی ذات آپکے حوالے کی . . لڑکے نے کہا میں با مطابق سنت كے اب نکاح کرونگا ، لحاظہ کچھ گھنٹے كے بَعْد اسکا میسیج آیا کی ہمارا نکاح ہو گیا ہے بامطابق سنت اور خطبہ بھی ہوا اور کل میں ماددرسے کے بچوں کو دعوت کھلا دونگا ولیمہ کی۔ کیا اِس نویییت میں ان دونوں کا نکاح باقی ہے ؟ کیا وہ دونوں آپس میں زوجین کا رشتہ رکھتے ہیں یا نہیں ؟ برائے مہربانی جلد اَز جلد جواب عنایت فارمائین . . . ( 4 ) وہ لڑکا اس لڑکی کو بہت ٹارچر کرنے لگا مثلاً پہلے اللہ کی قسم اٹھاتا اور ایمان سے کہتا کہ تو یہ کام کر ، نہیں تو تجھے ذلیل اور برباد کردوگا . . . اور لڑکی کو کرنے کو کہتا جب لڑکی انکار کرتی تو کہتا کی اب میں اپنی قسم پوری کرونگا ورنہ یہ کام تجھے کرنا پڑیگا . . . ( مثلاً کہتا تھا کی اپنے باپ کو گالی دے ، ریکارڈ بھیج اسکا ، اپنی ماں کو گلی دے اور ریکارڈ بھیج اسکا ، اور لڑکی کو وقت كے مطابق بات کرنے کو کہتا تھا اور اگر گھر میں وہ نہیں کر پاتی تھی تو اسکو بد دعائیں دیتا تھا بطور شوہر کہہ کر . . اور آخر میں لڑکی کو گھر سے بھاگنے کو کہا قسم اٹھا کر ہی ) . لڑکی نے انکار کیا اور گھر میں بتا دیا کی یہ مسئلہ ہے ، گھر والو نے اس سے رابطہ ختم کروا دیا یہ کہہ کر کی اِس طرح نکاح نہیں ہوتا . . . میرا آخری سوال یہ ہے کی لڑکی نے خالص دین کو دیکھ کر اس شخص سے نکاح کیا تھا ، اور اس شخص نے اسے وعدہ بھی کیا تھا کی وہ اسکی عزت کا خیال رکھیں گا اور عزت سے رخصتی کرائے گا لیکن رویہ نا قابل برداشت ہوتا چلا گیا اور اس نے بھاگنے كے لیے ٹارچر کرنا شروع کر دیا ، اور کہا کی وہ اِس رشتے کو اب قایم نہیں رکیھگا صرف اپنا حساب لینا چاہتا ہے یعنی لڑکی سے بدلہ کی وہ اسکے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اب . خلاصہ کلام یہ ہے کی وہ لڑکی دن رات اپنی اِس گناہ پر آنسو بہاتی ہے اور آخرت کو لیکر خوف زدہ ہے کی اگر نکاح باقی ہے تو اسکی ساری عبادت ضائع ہو رہی ہونگی اور وہ اسے خلع یا طلاق کا مطالبہ کریگی تو اس سے رابطہ کرنا ھوگا ، اور وہ طلاق یا خلع نہیں دیگا بنا اسکو نقصان پهچاے ، اب اِس صورت میں لڑکی کو کیا کرنا چاہئے کہ اسکے ساتھ رہنا ممکن نہیں ہے اور اگر نکاح باقی ہے تو آخرت برباد ہو جائیگی . . . برائے مہربانی مفتیان عزام کوئی صورت ایسی بتا دیں کی اگر نکاح ہے تو فسخ ہو سکیں . . . یا کوئی اور رائے دیجئے۔ اور کیا ان سب حالاتوں کے دیکھتے ہوئے جو اوپر بیان کۓ گۓ، لڑکی کی صدق دل سے توبہ کے بعد بھی مسلمان کو دھوکہ دینے والوں میں شامل ہوگی؟ نیز یہ کہ لڑکی نے اپنے والدین کی عزت بچانے کیلئے بنا طلاق لیے تعلق توڑا ہے اور اگر اب وہ شرعی پنچایت کے ذریعہ نکاح فسخ کرے تو بھی رسوائی ہوگی۔ بہت بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے جس سے روح کانپتی ہے، لڑکی بہت زیادہ پریشان ہے کہ دنیا و آخرت دونوں برباد ہونے کا سبب اسکی یہ غلطی بننے والی ہے، اور کوئی صورت نہ ملی تو اسکے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ وہ والدین کو بےعزت نہیں کر سکتی اور اپنی آخرت بھی اس طرح برباد نہیں کر سکتی چپ بیھٹ کر کہ نکاح باقی ہو اور اس سے تعلق نہیں رکھنا بلکل اب ممکن ہی نہیں تو سب برباد ہو گا۔ جلد از جلد جواب عنایت فرمایے، اللہ تعالی آپ سب کو سرور کاینات حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کا پڑوس جنت میں نصيب فرماے۔ واسلام دعاؤں کی درخواست۔?

تفصیل/مزیدمعلومات

June 13, 2021

اسلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، میرے چند سوالات ہیں : ( 1 ) بالغ لڑکا اور لڑکی نے ویڈیو کال پر نکاح منعقد کیا ، کیا اِس طرح نکاح ہو گیا ؟ نکاح کا طریقہ یہ تھا : - ویڈیو کال كے اک طرف اکیلی لڑکی بیٹھی ہے اسکے پاس کوئی نہیں ہے اور دوسری طرف لڑکا ہے ( دو گواہ بھی ہے ) لیکن لڑکی نے ان گواہوں کو اپنی نگاہوں سے نہیں دیکھا ، نہ نکاح کرتے وقت اور نہ ہی پہلے یا بَعْد میں ، اسکو صرف لڑکا ویڈیو کال پر نظر آ رہا تھا . "لڑکی نے یہ جملے کہے - میں اپنی ذات آپکے حوالے کرتی ہو اور میں آپ سے نکاح کرنا چاہتی ہو ". . . جواباً لڑکے نے کہا میں نے آپکو اپنے نکاح میں قبول کیا . . . اور لڑکے نے کہا ہاں بھئی ! ! سن لیا ؟ لڑکی کو صرف آواز آئی گواہوں کی کہ سن لیا . . . ( 2 ) نکاح كے کچھ دن بَعْد ہی کسی بات پر ان دونوں میں لڑائی ہوئی جسپر لڑکے نے لڑکی سے کہا کی اگر تم نے فلاں کام کیا ہو تو تمہیں تِین طلاق ہے ، ( چونکہ کافی عرصہ ہو گیا لڑکی کو مکمل میسیج کی تحریر قوی طور پر یاد نہیں ) لیکن اس میں تمہیں تِین طلاق ہو کا ذکر تھا ، مفتیان عزام سے پوچھنا ہے کہ اگر لڑکا اِس طرح کوئی منتک استعمال کرکے تِین طلاق دے تو کیا پڑ جاتی ہے ؟ لڑکی کو کنفیوژن ہے کی منتک کا استعمال ہوا ہے یا صریح طلاق دی گئی تھی . . اب اِس صورت میں کیا حکم ھوگا کیونکہ میسیج محفوظ نہیں ہے اور کشمکش ہے . . . ( لڑکی نے وہ کام کیا تھا اور اس نے اس لڑکے سے کہہ بھی دیا فوراً کی ہاں وہ کام اس سے سرزد ہوا ہے ) . ( 3 ) لڑکا اور لڑکی دونوں ایسی ہی باتیں کرتے رہے اور پِھر جھگڑا ہوا تو لڑکی نے خلع مانگا ، لڑکے نے کہا ویڈیو کال پر بولو کی مجھے آپ سے خلع چاہئے چناچہ لڑکی نے ایسا ہی کیا . لڑکے نے ويڈیو کال پر کہا کہ میں نے تمہیں خلع دیا ، اور میسیج پر لکھ بھیجا کی اب تم آزاد ہو ، ہمارا نکاح ختم ہوا اور میں اللہ کی قسم کھاتا ہو تم سے اب نہ نکاح کرونگا اور نہ تم سے کوئی تعلق . . . اسکے بَعْد اس نے پِھر منتیں کرکے اس لڑکی سے رُجو کرنا چاہا ، لڑکی مان گئی اور دونوں کی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہوا - دوسرے نکاح کا طریقہ یہ تھا : - لڑکی نے وائس میسیج میں کہا میں آپ سے نکاح کرنا چاہتی ہو اور میں نے اپنی ذات آپکے حوالے کی . . لڑکے نے کہا میں با مطابق سنت كے اب نکاح کرونگا ، لحاظہ کچھ گھنٹے كے بَعْد اسکا میسیج آیا کی ہمارا نکاح ہو گیا ہے بامطابق سنت اور خطبہ بھی ہوا اور کل میں ماددرسے کے بچوں کو دعوت کھلا دونگا ولیمہ کی۔ کیا اِس نویییت میں ان دونوں کا نکاح باقی ہے ؟ کیا وہ دونوں آپس میں زوجین کا رشتہ رکھتے ہیں یا نہیں ؟ برائے مہربانی جلد اَز جلد جواب عنایت فارمائین . . . ( 4 ) وہ لڑکا اس لڑکی کو بہت ٹارچر کرنے لگا مثلاً پہلے اللہ کی قسم اٹھاتا اور ایمان سے کہتا کہ تو یہ کام کر ، نہیں تو تجھے ذلیل اور برباد کردوگا . . . اور لڑکی کو کرنے کو کہتا جب لڑکی انکار کرتی تو کہتا کی اب میں اپنی قسم پوری کرونگا ورنہ یہ کام تجھے کرنا پڑیگا . . . ( مثلاً کہتا تھا کی اپنے باپ کو گالی دے ، ریکارڈ بھیج اسکا ، اپنی ماں کو گلی دے اور ریکارڈ بھیج اسکا ، اور لڑکی کو وقت كے مطابق بات کرنے کو کہتا تھا اور اگر گھر میں وہ نہیں کر پاتی تھی تو اسکو بد دعائیں دیتا تھا بطور شوہر کہہ کر . . اور آخر میں لڑکی کو گھر سے بھاگنے کو کہا قسم اٹھا کر ہی ) . لڑکی نے انکار کیا اور گھر میں بتا دیا کی یہ مسئلہ ہے ، گھر والو نے اس سے رابطہ ختم کروا دیا یہ کہہ کر کی اِس طرح نکاح نہیں ہوتا . . . میرا آخری سوال یہ ہے کی لڑکی نے خالص دین کو دیکھ کر اس شخص سے نکاح کیا تھا ، اور اس شخص نے اسے وعدہ بھی کیا تھا کی وہ اسکی عزت کا خیال رکھیں گا اور عزت سے رخصتی کرائے گا لیکن رویہ نا قابل برداشت ہوتا چلا گیا اور اس نے بھاگنے كے لیے ٹارچر کرنا شروع کر دیا ، اور کہا کی وہ اِس رشتے کو اب قایم نہیں رکیھگا صرف اپنا حساب لینا چاہتا ہے یعنی لڑکی سے بدلہ کی وہ اسکے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اب . خلاصہ کلام یہ ہے کی وہ لڑکی دن رات اپنی اِس گناہ پر آنسو بہاتی ہے اور آخرت کو لیکر خوف زدہ ہے کی اگر نکاح باقی ہے تو اسکی ساری عبادت ضائع ہو رہی ہونگی اور وہ اسے خلع یا طلاق کا مطالبہ کریگی تو اس سے رابطہ کرنا ھوگا ، اور وہ طلاق یا خلع نہیں دیگا بنا اسکو نقصان پهچاے ، اب اِس صورت میں لڑکی کو کیا کرنا چاہئے کہ اسکے ساتھ رہنا ممکن نہیں ہے اور اگر نکاح باقی ہے تو آخرت برباد ہو جائیگی . . . برائے مہربانی مفتیان عزام کوئی صورت ایسی بتا دیں کی اگر نکاح ہے تو فسخ ہو سکیں . . . یا کوئی اور رائے دیجئے۔ اور کیا ان سب حالاتوں کے دیکھتے ہوئے جو اوپر بیان کۓ گۓ، لڑکی کی صدق دل سے توبہ کے بعد بھی مسلمان کو دھوکہ دینے والوں میں شامل ہوگی؟ نیز یہ کہ لڑکی نے اپنے والدین کی عزت بچانے کیلئے بنا طلاق لیے تعلق توڑا ہے اور اگر اب وہ شرعی پنچایت کے ذریعہ نکاح فسخ کرے تو بھی رسوائی ہوگی۔ بہت بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے جس سے روح کانپتی ہے، لڑکی بہت زیادہ پریشان ہے کہ دنیا و آخرت دونوں برباد ہونے کا سبب اسکی یہ غلطی بننے والی ہے، اور کوئی صورت نہ ملی تو اسکے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ وہ والدین کو بےعزت نہیں کر سکتی اور اپنی آخرت بھی اس طرح برباد نہیں کر سکتی چپ بیھٹ کر کہ نکاح باقی ہو اور اس سے تعلق نہیں رکھنا بلکل اب ممکن ہی نہیں تو سب برباد ہو گا۔ جلد از جلد جواب عنایت فرمایے، اللہ تعالی آپ سب کو سرور کاینات حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کا پڑوس جنت میں نصيب فرماے۔ واسلام دعاؤں کی درخواست۔?

تفصیل/مزیدمعلومات