26 Feb, 2021 | 14 Rajab, 1442 AH

Recent Fatwas by Mahad

January 15, 2021

*السلام عليكم وحمةاللّه و بركاته * وراثت کی تقسیم کے بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔ میت کی : دو بیٹیاں ہیں اور زندہ ہیں  ایک بیوی ہیں اور زندہ ہیں اولاد نرینہ نہیں ہے مان اور باپ وفات پا چکے ہیں دادا،دادی،نانا،نانی کوئی زندہ نہی ہے میت کے ۴ بہن بھائی ہیں ( میت کو ملا کے ۵ ہوگئے ) ان میں سے اب صرف ایک بھائی اور ایک بہن زندہ ہیں ۔ سوال نمبر ۱: اب وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی ۔کیا میت کے بہن بھائیوں کا حصہ ہوگا ۔ اور کیا جو بھائی اور بہن وفات پا چکے ہیں ان کا اولاد کو بھی دینا ہوگا؟ سوال نمبر ۲: کل حصص کتنے ہوں گے اور ان کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ سوال نمبر ۳: میت کا انتقال کوڈ ۱۹سے ہوا ہے- جس پر بہت خرچہ ہوا اور علاج کے لئے قرض لینا پڑھا- کیا یہ قرض میت کے مال سے ادا کی جائے گی ؟ اور اگر کی جائے گی تو کیا قرض کی ادائیگی کے بعد وراثت کی تقسیم ہوگی ؟ سوال نمبر ۴: میت کی وراثت میں ایک عدد چھوٹا سا سکول ہے جس کی آمدنی سے ان کا گزر بسر ہوتا ہے اس کے علاوہ ان کا گھر ہے جس میں وہ رہتے ہیں کیا وراثت کی تقسیم کے لئے اسکول اور گھر کو بیچنا ہوگا ؟ جزاکم اللّہ خیرا?

تفصیل/مزیدمعلومات