15 Jun, 2021 | 5 Dhul Qadah, 1442 AH

Recent Fatwas by Mahad

June 04, 2021

اکابرین دیوبند کے مستند ترین دالافتاء کے فتاوی جات اور مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ کی کتاب "فتنہ مودودیت "،حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب کی کتاب "مودودی صاحب اکابر امت کی نظر میں "،مولانا منظور نعمانی صاحب کی تحریرات اور مندرجہ ذیل کتب " جماعت اسلامی کا دینی رخ "، "مودودی صاحب اور تخریب اسلام"، "فتاوی محمودیہ"اور دیگر کچھ تحریرات کتب کے مطالعہ کے بعد بندہ مودودی صاحب اور ان کی جماعت جماعت اسلامی کے بارے اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ: 1. ان کے عقائد اہلسنت و الجماعت کے خلاف ہیں ۔۔۔ 2.ایسے عقائد کے حامل شخص کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اور انکو اپنے اختیار میں امام بنانا درست نہیں۔۔۔ 3.اور جماعت اسلامی میں شامل ہونا جائز نہیں۔۔۔ 4.مودودی صاحب کے نزدیک زکوۃ میں تملیک شرط نہیں ۔۔۔(مودودی صاحب اور تخریب اسلام ، از: مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب نور اللہ مرقدہ) : میرا سوال یہ ہے کہ 1.کیا اکابرین کی رائے مودودی صاحب اور ان کی جماعت، جماعت اسلامی کے بارے میں اب بھی وہی ہے یا اکابرین اس سے رجوع کر چکےہیں؟ 2.بیان کردہ تحریرات اور فتاوی جات قابل عمل ہیں ؟ 3.جو دیوبند مسلک کے افراد ان سے ناواقف ہوں ان تک محض ان کی اصلاح کی نیت سے یہ تحریرات و فتاوی جات پہنچانا درست ہیں کہ نہیں؟ 4.جماعت اسلامی سے منسلک افراد کو ان کی ذیلی فلاحی تنظیم کیلئے زکوۃ و فطرانہ دیا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ (یہ سوال تعصب کی بنیاد پر نہیں بلکہ مسلک دیوبند کے اپنے ساتھیوں کی اصلاح کی نیت سے کیا گیا ہے جو مودودی صاحب کو دیوبند مسلک کا امام مانتے ہیں۔)?

تفصیل/مزیدمعلومات

June 04, 2021

ہمارےہاںمساجد میں ختم قران کےموقع پر طعام یا شیرینی مٹھائی وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس میں بعض چھوٹی جگہیں ہوتی ہیں جہاں کوئی ایک فرد یا کچھ مخصوص افراد اس کا اہتمام کرتے ہیں جس کے جواز کا فتوی آپ کےہاں سے دیا جاتا ہے۔۔۔ لیکن اسی کے تسلسل میں بڑی مساجد بالخصوص غریب آبادیوں کی مساجد میں بھی اس کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں کوئی ایک فرد یا کچھ مخصوص افراد یہ استطاعت نہیں رکھتے تو اس کے لیے عوام سے چندہ کیا جاتا ہے اور مسجد میں اعلانات بھی کیے جاتے ہیں، جس کی مندرجہ بالا صورتیں دیکھی گئی ہیں: 1. لوگوں پہ کوئی مخصوص رقم نہیں باندھی جاتی ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق دے سکتا ہے لیکن اس کا باقاعدہ اعلان مسجد سے کیا جاتا ہے اور چندہ کی جھولی چلائی جاتی ہے۔ 2. چندہ کے ساتھ ساتھ باقاعدہ فی گھر کے ساتھ ایک رقم مخصوص کر دی جاتی ہے جو ان کو دینا لازم ہے ، اگر بلفرض اس میں لازمی دینے کا عنصر منہا بھی کر دیا جائے تو بھی یہ بات ایک عمومی سمجھ میں آنے والی ہے کہ اگر کوئی شخص نہیں دے گا تو یقینا اس کی اہمیت امام مسجد یا منتظمین کے نزدیک گر جائے گی تو در حقیقت تو وہ بھی اس کا پابند ہی ہوتا ہے ۔ اور ان سب کے دفاع میں جواز کا فتوی اور لوگوں کی بھرپور شرکت اور اس کے نتیجے میں بیان کا زیادہ لوگوں تک پہنچنا ، یہ دو حکمتیں بتائی جاتی ہیں۔ اب ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم ارشاد فرما دیں کہ: 1. مندرجہ بالا دو صورتوں میں کیے گئے اہتمام کی حیثیت کیا ہے ؟ 2. ان صورتوں دی گئی رقم کا کیا حکم ہے ؟نیز ان صورتوں میں دی جانے والی رقم پر ثواب ملے گا کہ نہیں؟?

تفصیل/مزیدمعلومات