20 Apr, 2021 | 8 Ramadan, 1442 AH

Question #: 2735

January 15, 2021

*السلام عليكم وحمةاللّه و بركاته * وراثت کی تقسیم کے بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔ میت کی : دو بیٹیاں ہیں اور زندہ ہیں  ایک بیوی ہیں اور زندہ ہیں اولاد نرینہ نہیں ہے مان اور باپ وفات پا چکے ہیں دادا،دادی،نانا،نانی کوئی زندہ نہی ہے میت کے ۴ بہن بھائی ہیں ( میت کو ملا کے ۵ ہوگئے ) ان میں سے اب صرف ایک بھائی اور ایک بہن زندہ ہیں ۔ سوال نمبر ۱: اب وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی ۔کیا میت کے بہن بھائیوں کا حصہ ہوگا ۔ اور کیا جو بھائی اور بہن وفات پا چکے ہیں ان کا اولاد کو بھی دینا ہوگا؟ سوال نمبر ۲: کل حصص کتنے ہوں گے اور ان کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ سوال نمبر ۳: میت کا انتقال کوڈ ۱۹سے ہوا ہے- جس پر بہت خرچہ ہوا اور علاج کے لئے قرض لینا پڑھا- کیا یہ قرض میت کے مال سے ادا کی جائے گی ؟ اور اگر کی جائے گی تو کیا قرض کی ادائیگی کے بعد وراثت کی تقسیم ہوگی ؟ سوال نمبر ۴: میت کی وراثت میں ایک عدد چھوٹا سا سکول ہے جس کی آمدنی سے ان کا گزر بسر ہوتا ہے اس کے علاوہ ان کا گھر ہے جس میں وہ رہتے ہیں کیا وراثت کی تقسیم کے لئے اسکول اور گھر کو بیچنا ہوگا ؟ جزاکم اللّہ خیرا

Answer #: 2735

السلام عليكم وحمۃالله و بركاتہ ! وراثت کی تقسیم کے بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔

میت کی دو بیٹیاں ہیں اور زندہ ہیں  ایک بیوی ہے اور زندہ ہے اولادِ نرینہ نہیں ہے ماں اور باپ وفات پا چکے ہیں دادا،دادی،نانا،نانی کوئی زندہ نہیں ہے، میت کے ۴ بہن بھائی ہیں ( میت کو ملا کے ۵ ہوگئے ) ان میں سے اب صرف ایک بھائی اور ایک بہن زندہ ہیں ۔

سوال نمبر ۱: اب وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی ۔کیا میت کے بہن بھائیوں کا حصہ ہوگا ۔ اور کیا جو بھائی اور بہن وفات پا چکے ہیں ان کا حصہ ان کی  اولاد کو بھی دینا ہوگا؟

سوال نمبر ۲: کل حصص کتنے ہوں گے اور ان کی تقسیم کس طرح ہوگی؟

سوال نمبر ۳: میت کا انتقال کوڈ ۱۹سے ہوا ہے- جس پر بہت خرچہ ہوا اور علاج کے لئے قرض لینا پڑا، کیا یہ قرض میت کے مال سے ادا کیا جائے گا ؟ اور اگر میت کے مال سے ادا کیا جائے گا تو کیا قرض کی ادائیگی کے بعد وراثت کی تقسیم ہوگی ؟

سوال نمبر ۴: میت کی وراثت میں ایک عدد چھوٹا سا سکول ہے جس کی آمدنی سے ان کا گزر بسر ہوتا ہے اس کے علاوہ ان کا گھر ہے جس میں وہ رہتے ہیں کیا وراثت کی تقسیم کے لئے اسکول اور گھر کو بیچنا ہوگا ؟ جزاکم اللّہ خیرا

تنقیح:

اس میں یہ سوال ہے کہ میت کے انتقال کے وقت کتنے بھائی اور کتنی بہنیں زندہ تھیں؟ اس کے بعد ان شاء اللہ جواب دیا جائے گا۔

جوابِ تنقیح:

میت کے انتقال کے وقت صرف ایک بھائی اور ایک بہن زندہ تھے ۔ جزاک اللہ خیرا

الجواب حامدا ومصلیا

  1. واضح رہےکہ میراث ہر وارث کا شرعی حق ہے, جو اس کےحصےکے بقدر اس کو دینا ضروری ہے۔  مرحوم رحیم خاں نے  بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں مذکورہ بالا سکول اور گھر  سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔  اس سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں  ، اگر وہ اخراجات کسی نے اپنی طرف سے بطور ِ احسان ادا کئے ہوں ، تو اب انہیں کل ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے ۔ اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم پر کسی کا واجب الأداء قرضہ ہو تو بقیہ ترکہ سے  اسے ادا کیا جائے ،اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی ایک تہائی تک اس پر عمل کیا جائے۔ اس کے بعد  باقی ترکہ کے کل  72 حصے کردیں، اور بیوہ کو  9،  ہر بیٹی کو  24  ، بھائی کو 10، اور  بہن کو 5 حصے دیے جائیں۔
  2.  مرحوم کے  بہن بھائی  جو ان سے پہلے وفات پا چکے ہیں ، ان کو میراث سے حصہ نہیں ملے گا اور نہ ہی ان کی اولاد کو  ملے گا، وہ سب ترکہ سے محروم ہیں۔
  3. میت کا انتقال کوڈ ۱۹سے ہوا ہے- جس پر بہت خرچہ ہوا اور علاج کے لئے  جو قرض لینا پڑا،  وہ  قرض میت کے مال سے ادا کیا جائے گا، اور ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے ادا کرنا ہوگا، اس کی ادائیگی کے بعد اگر کچھ بچ جائے تو   اس کو ورثہ کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔
  4. میت کی وراثت میں ایک عدد چھوٹا سا  جو سکول  اور  گھر  ہے ، اس کو بھی وراثت میں تقسیم کرنا ہوگا، البتہ  وراثت میں تقسیم کے لئے اسکول اور گھر کو بیچنا ضروری نہیں ہے، اگر ورثہ اس کو مشترکہ رکھنا چاہیں تو رکھ سکتے ہیں، اور مشترکہ طور پر رکھنے کی صورت میں حساب کتاب کرلینا ضروری ہے کہ یہ سکول یا گھر کن کن وارثوں کو ملا ہے اور اس میں  کس وارث کا کتنا حصہ ہے۔

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غَفَرَاللّٰہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

‏05‏ رجب‏، 1442ھ

‏18‏ فروری‏، 2021ء