19 Oct, 2019 | 19 Safar, 1441 AH

Question #: 2499

September 29, 2019

Assalamu alaikum wr wb Hazrat mera sawal ye hai k kya digital photography haram hai? Kya phoen se jo taswir li jati hain vo haram hain.

Answer #: 2499

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت میرا سوال یہ ہےکہ کیا ڈیجیٹل فوٹو گرافی  حرام ہے؟کیا فون سے جو تصویر لی جاتی ہیں وہ حرام ہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

ڈیجیٹل کیمرے کے ذریعے بنائی گی تصویرکا اگر پرنٹ لیا جائے یا انہیں پائیدار طریقے سے کسی چیز پر نقش کر لیا جائے تو شرعاً ان پر تصویر کے احکام جاری ہوں گے ۔البتہ اگر ان کا پرنٹ نہ لیا جائے یا پائیدار طریقے سے کسی چیز پر نقش نہ کیا جائے تو ان کے تصویر ہونے میں حضراتِ علماء کی تین رائیں ہیں :

۱۔ بعض حضراتِ علماءِ کرام کے نزدیک ان پر تصویر کے احکام جاری ہوتے ہیں۔

۲۔ بعض حضراتِ علماءِ کرام کے نزدیک ان پر تصویر کے احکام جاری نہیں ہوتے ہیں۔

۳۔ بعض حضراتِ علماءِ کرام کے نزدیک اگرچہ تصویر ہیں ۔لیکن چونکہ ان کے بحکم ِ تصویر ہونے یا نہ ہونے میں ایک سے زیادہ فقہی آراء ہیں لہذا مجتہد فیہ ہونے کی بناء پر بقدر حاجتِ شرعیہ مثلاً جہاد وغیرہ کے موقع پر ان کے استعمال کی گنجائش ہے۔

تکملۃ فتح الملھم _ /۱۶۴)

فان کانت صور الانسان حیۃ بحیث تبدو علی الشاشۃ فی نفس الوقت الذی یظھر فیہ الانسان امام الکیمرا ، فان الصورۃ لا تستقر علی الکیمرا ولا علی الشاشۃ   ،وانما ھی اجزاء کھربائیۃ  تنتقل من الکیمرا الی الشاشۃ وتظھر علیھا بترتیبھا الاصلی ، ثم تفنی وتزول ۔ واما اذا احتفظ بالصورۃ فی شریط الفیدیو ، فان الصور لاتنقش علی الشریط ، وانما تحفظ فیھا الاجزاء الکھربائیۃ  التی لیس فیھا صورۃ فاذا ظھرت ھذہ الاجزاء علی الشاشۃ ظھرت مرۃ  اخری بذلک الترتیب الطبیعی ، ولکن لیس لھا ثبات ولا استقرار علی الشاشۃ ، انما ھی تظھر وتفنی ۔ فلا یبدو ان ھناک مرحلۃ من المراحل تنتقش فیھا الصورۃ علی شیء بصفۃ مستقرۃ او دائمۃ ۔وعلی ھذا فتنزیل ھذہ الصورۃ المستقرۃ مشکل۔

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غَفَرَاللّٰہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

‏۰۹ ، ‏ صفرالمظفر‏، ۱۴۴۱ھ

‏09‏ اکتوبر‏، 2019ء