15 Nov, 2018 | 6 Rabiul Awal, 1440 AH

Question #: 2266

August 09, 2018

Assalamualaikum wa rehmatullahi wa barkatuhu Masla:- Shohar ne biwi ko do talaq di sabke samne ye kehke ki:- Mein sabko yaha jo mawjud hai unko gawah banata hu aur talaq deta hu or sab jo yaha mawjud h or mera rabb gawah h ki mein ishe talaq deta hu, Ab biwi apne ammi ke ghrme hain....aur agr ab biwi ko wapas apne shauhar ke paas jana hoga toh kya krna chaie? Plz bataein.... Jazakumullahu khaira.

Answer #: 2266

الجواب حامدا و مصلیا

                 جواب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ مفتی غیب نہیں جانتا   وہ  سوال کا پابند ہوتا ہے جیسا سوال ہوتا ہے اسی کے مطابق جواب لکھتا ہے ،سوال کے سچے اور جھوٹے ہونے کی ذمہ داری سائل پر ہوتی ہے ،غلط بیانی  کے ذریعے اپنے حق میں فتوی حاصل کرلینے سے حرام حلال نہیں ہوتا، بلکہ حرام بدستور حرام ہی رہتا ہے اور غلط بیانی کا مزید وبال بھی اس پرعائد ہوتا ہے۔

               صورت مسؤلہ میں اگر بیانات درست ہیں کہ شوہر  نے دو مرتبہ ہی طلاق کے الفاظ کہے ہیں اور اس سے پہلےبھی  کوئی  طلاق نہیں دی تھی  میں تو اس کی بیوی پر دو طلاقیں رجعی واقع ہوئی ہیں۔

              طلاق رجعی کا حکم یہ ہے کہ عدت یعنی تین مرتبہ  ایام ماہواری گذرنے سے پہلےپہلے شوہراپنی بیوی سے رجوع کرسکتا ہے۔   رجوع کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ دو گواہوں کے سامنے یہ کہہ دے  کہ میں  طلاق سے رجوع کرتا ہوں۔ اس کے بعدوہ دونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں۔ اور اس میں دوبارہ  نکاح  کرنی کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

               اگر شوہر  نے عدت کے اندر رجوع نہ کیا تو  عدت پوری ہونے پراس کی  بیوی اس  کے نکاح سے نکل جائے گی،  پھر  رشتہ ازدواج کی بحالی کے لیے ان کوباہمی رضامندی سے نیا نکاح ،نئے مہر کے ساتھ کرناضروری ہوگا، از سر نونکاح کیے بغیر وہ  دونوں میاں بیوی کی طرح نہیں رہ سکیں گے۔

         جس عورت کو حیض آتاہو، اس کی عدت ِطلاق تین ماہواری(حیض) ہے، حاملہ  عورت کی عدتِ طلاق بچے کی پیدائش ہے۔

             جب شوہر عدت کے اندر رجوع کرلے یاعدت کے گذرجانے کے بعد اس سے  دوبارہ نکاح  کرے، دونوں صورتوں میں اس کو مزید ایک طلاق دینے کا  اختیار ہوگا، اگر اس نے مزید ایک طلاق دے دی تو  اس  سےحرمت مغلظہ ثا بت ہوجائے گی، ( یعنی وہ اس پر مکمل طور پر حرام ہوجائے گی) اور پھر اس کے بعد اس کے نکاح میں نہیں آسکے گی۔ اس لیے مزید طلاق دینے میں احتیاط کی جائے۔ 

فی الدر المختار - (3/ 293)

كرر لفظ الطلاق وقع الكل.

وفی حاشية ابن عابدين - (3/ 293)

 (قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق، وإذا قال: أنت طالق ثم قيل له ما قلت؟ فقال: قد طلقتها أو قلت هي طالق فهي طالق واحدة لأنه جواب،

لما فی الیداية:  (2/254)

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: "فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ" (البقرة: 231) من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها" والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة .... قال: " ويستحب أن يشهد على الرجعة شاهدين فإن لم يشهد صحت الرجعة.

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

‏25‏/ذو الحجّہ‏/1439ھ

‏06‏/ستمبر‏/2018ء