14 Aug, 2018 | 2 Zulhijjah, 1439 AH

Assalam o alaikum. mein ye puchna chahti hun k jb nikkah ho chuka ho or rukhsati na hui ho tb shariat mein kya limit hy larka larki k liye apas mein. kya wo phone pe baat kr skty hn? or agr rukhsati se pehly larka larki ko tanhayi mein milny ka kahy tou kya hukm hy. mehrbani kr k guide kren.

السلام علیکم !میرا سوال یہ ہے ،کہ اگر صرف نکاح ہو چکا ہو ،رخصتی نہ ہوئی ہو تو لڑکا اور لڑکی کو خلوت میں ملنے کی شریعت اجازت دیتی ہے ؟اگر میرے شوہر (نکا ح ہو ا ہے رخصتی نہیں )مجھے کہیں باہر لے جانا چاہیں کھانے کھلانے کے لیے یا شوپنگ کرانے۔۔۔تو کیا میں ان کے ساتھ کر سکتی ہوں ، اگر اسکا جواب نہیں ہے ، تو اس صورت میں کیا کریں کہ شوہر بہت مجبور کریں ان سے ملنے کے لیے ۔؟جزاک اللہ

الجواب حامدا ومصلیا

نکاح کے بعد بیوی اپنے شوہر کے لیے حلال ہو جاتی ہے۔ بعد از نکاح دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہر طرح کے تعلقات بحال کرسکتے ہیں، چاہے رخصتی نہ بھی ہوئی ہو۔ البتہ اس حوالے سے عرف اور معاشرتی اخلاقیات کو ملحوظ رکھنا چاہئے، اور ہمارے معاشرہ میں اس کو برا سمجھا جاتا ہے، لہذا صورت مسؤلہ میں آپ  کو آپ کاشوہر  کہیں باہر لے جانا چاہیں، کھاناکھلانے کے لیے یا شاپنگ کرانے کے لیے  ..... تو عرف اور معاشرتی اخلاقیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے ساتھ  نہ جائیں تو بہتر ہے، تاکہ بعد میں ملامت کاسامنا نہ کرنا پڑے، کیونکہ اپنے آپ کو ملامت سے بچانا بھی تو ضروری ہے۔

    واللہ اعلم بالصواب

      احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

    دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۴؍جمادی الثانی؍۱۴۳۹ھ

                                                                                ۱۳؍مارچ؍۲۰۱۸ء