17 Jul, 2019 | 14 Dhul Qadah, 1440 AH

Question #: 2271

August 18, 2018

کیا یہ نیچے والی دعا صحیح ہے 9 ذو الحج کا روزه کون سے دن اور کس ملک کے ساتھ رکھیں ...... قرآن وسنت سے مدلل عمده فیصله کن جواب .* عرفہ کا دن سال کا بہترین دن ہے اور یه وه عظیم دن ہے جس کے بارے میں رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: *"کوئی دن ایسا نہیں ہے کہ اس میں الله تعالیٰ عرفات کے دن سے زیاده لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہو۔"* صحیح مسلم. نو ذوالحجہ کو روزه رکھنا خصوصی اجر و ثواب کا باعث ہے۔ "رسول الله ﷺ سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا. *یُُکََفِّرُ السَّنَۃَ الْمَاضِیَۃَ وَالبَاقِیَۃَ.* صحیح مسلم. *"گذشتہ سال اور آئنده سال کے گناہوں کا کفاره ہے."* یہ روزہ رکھنا غیر حاجیوں کے لیے مشروع ہے. حاجی میدان عرفات میں یہ روزه نہیں رکھيں گے. اب آتے هیں اس اهم مسئلے کی طرف بلاد حرمین شریفین سے باهر رهنے والے کیا کریں؟ 1_ احادیث میں جو فضیلت وارد هوئی هے وه عرفه کے روزے کی هے, 9 ذوالحجه کی نهیں هے. 2_ جس دن حاجی عرفات میں اکٹھے هوتے هیں صرف اس دن کو یوم عرفه کها جاتا هے. 3_ کسی بھی ملک سے آنے والا حاجی اپنے ملک کی تاریخ کے حساب سے حج نهیں کرسکتا هے کیونکه اس کا حج باطل هوگا. 4_ حج کا آغاز اهل مکه مکرمه کی طرف سے چاند دیکھنے کےمطابق هوگا اور عرفات میں بھی حاجی ان مسلمانوں کی رؤیت هلال کے حساب سے حاضر هونگے. 5_ کسی حدیث میں نو ذوالحجه کا روزه رکھنے کے الفاظ نهیں آئے هیں. یعنی اس روزے کا رمضان کی طرح چاند سے تعلق نهیں هے. بلکه اس کا تعلق عرفه کے دن سے هے اور عرفه اس دن کو کهتے هیں جب حاجی عرفات میں اکھٹے هوتے هیں. 6_ پس جس طرح حج پاکستان یا کسی اورملک کی تاریخ کے مطابق نهیں کیا جاسکتا هے بالکل اسی طرح یوم عرفه بھی کسی ملک کی تاریخ کے مطابق متعین نهیں هوگا بلکه صرف اهل خانه کعبه کی رؤیت هلال کے مطابق هوگا. 7_ جو اس بات کی مخالفت کرتے هیں ان کو چیلنج هے که وه حج بھی اپنی تاریخ کے حساب سے کرکے دکھائیں. یعنی جس دن ان کی تاریخ کے حساب سے عرفه کا دن هو اس دن صبح جهاز میں مکه جائے اور طواف کرنے کے بعد عرفه میں شام تک کھڑے هوکر واپس آجائیں. کوئی بھی اسے حاجی نهیں مانے گا لیکن جو سعودیه کی تاریخ کے حساب سے جائے گا تواسے سب حاجی مانیں گے. خلاصه کلام دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس دن روزه رکھنا چاهیے جس دن حاجی عرفات میں هو خواه ان کے اپنے ملک میں اس دن کی تاریخ کچھ بھی کیوں نه هو. اس وجه سے که روزے کا تعلق یوم عرفه سے هے اور عرفه کا تعلق حاجیوں کے میدان میں اکٹھے هونے سے هے . اس روزے کا هر ملک کے چاند سے تعلق نهیں هے. پهلے میڈیا, فون اور جهاز جیسی سهولتیں نهیں تھی جس کی وجه سے کئی هفتوں ومهینوں بعد پته چلتا تھا. اب یه اضطراری کیفیت ختم هوچکی هے اور بروقت اطلاع پوری دنیا میں چند سکینڈوں میں مل جاتی هے. اب کوئی شرعی عذر باقی نهیں رها ان شاء الله اس بار حاجی حضرات پیرکو میدان عرفات میں اکٹھے هونگے اور هم سب مسلمانوں نے اپنے دو سال کے گناه معاف کرانے کے لیے پیر کے دن کا روزه رکھنا هے . دعا هے که الله تعالی اس دن جب پورے سال کی نسبت سب سے زیاده جهنم سے گردنوں کو آزاد فرمائے گا تو هماری گردنوں کو بھی آزاد فرمادے. آمین یا رب العالمین

Answer #: 2271

کیا یہ والی تحریر صحیح ہے :

9 ذو الحج کا روزه کون سے دن اور کس ملک کے ساتھ رکھیں۔ قرآن وسنت سے مدلل عمده فیصلہ: 

عرفہ کا دن سال کا بہترین دن ہے اور یہ وه عظیم دن ہے جس کے بارے میں رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’کوئی دن ایسا نہیں ہے کہ اس میں الله تعالیٰ عرفات کے دن سے زیاده لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہو۔‘‘صحیح مسلم۔ نو ذوالحجہ کو روزه رکھنا خصوصی اجر و ثواب کا باعث ہے۔ ’’رسول الله ﷺ سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: یُکَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِیَةَ وَالبَاقِیَةَ. صحیح مسلم۔گذشتہ سال اور آئنده سال کے گناہوں کا کفاره ہے‘‘۔ یہ روزہ رکھنا غیر حاجیوں کے لیے مشروع ہے۔ حاجی میدان عرفات میں یہ روزه نہیں رکھيں گے۔

اب آتے ہیں اس اہم مسئلے کی طرف، بلادِ حرمین شریفین سے باہر رہنے والے کیا کریں؟

1۔احادیث میں جو فضیلت وارد ہوئی ہے وه عرفہ کے روزے کی ہے، 9 ذوالحجہ کی نہیں ہے۔

2۔ جس دن حاجی عرفات میں اکٹھے ہوتے ہیں صرف اس دن کو یوم عرفہ کہا جاتا ہے۔

3۔ کسی بھی ملک سے آنے والا حاجی اپنے ملک کی تاریخ کے حساب سے حج نہیں کرسکتا ہے کیونکہ اس کا حج باطل ہوگا۔

4۔ حج کا آغاز اہل مکہ مکرمہ کی طرف سے چاند دیکھنے کےمطابق ہوگا اور عرفات میں بھی حاجی ان مسلمانوں کی رؤیت ہلال کے حساب سے حاضر ہونگے۔

5۔ کسی حدیث میں نو ذوالحجہ کا روزه رکھنے کے الفاظ نہیں آئے ہیں۔ یعنی اس روزے کا رمضان کی طرح چاند سے تعلق نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تعلق عرفہ کے دن سے ہے اور عرفہ اس دن کو کہتے ہیں جب حاجی عرفات میں اکٹھے ہوتے ہیں۔

6۔ پس جس طرح حج پاکستان یا کسی اورملک کی تاریخ کے مطابق نہیں کیا جاسکتا ہے بالکل اسی طرح یوم عرفہ بھی کسی ملک کی تاریخ کے مطابق متعین نہیں ہوگا بلکہ صرف اہل خانہ کعبہ کی رؤیت ہلال کے مطابق ہوگا۔

7۔ جو اس بات کی مخالفت کرتے ہیں ان کو چیلنج ہے کہ وه حج بھی اپنی تاریخ کے حساب سے کرکے دکھائیں۔ یعنی جس دن ان کی تاریخ کے حساب سے عرفہ کا دن ہو اس دن صبح جہاز میں مکہ جائے اور طواف کرنے کے بعد عرفہ میں شام تک کھڑے ہوکر واپس آجائیں۔ کوئی بھی اسے حاجی نہیں مانے گا لیکن جو سعودیہ کی تاریخ کے حساب سے جائے گا تواسے سب حاجی مانیں گے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس دن روزه رکھنا چاہیے جس دن حاجی عرفات میں ہوں خواه ان کے اپنے ملک میں اس دن کی تاریخ کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ اس وجہ سے کہ روزے کا تعلق یوم عرفہ سے ہے اور عرفہ کا تعلق حاجیوں کے میدان میں اکٹھے ہونے سے ہے۔ اس روزے کا ہر ملک کے چاند سے تعلق نہیں ہے۔ پہلے میڈیا، فون اور جہاز جیسی سہولتیں نہیں تھیں جس کی وجہ سے کئی ہفتوں ومہینوں بعد پتہ چلتا تھا۔ مگر اب یہ اضطراری کیفیت ختم ہوچکی ہے اور بروقت اطلاع پوری دنیا میں چند سکینڈوں میں مل جاتی ہے۔ اب کوئی شرعی عذر باقی نہیں رہا ان شاء الله اس بار حاجی حضرات پیرکو میدان عرفات میں اکٹھے ہونگے اور ہم سب مسلمانوں نے اپنے دو سال کے گناه معاف کرانے کے لیے پیر کے دن کا روزه رکھنا ہے۔ دعا ہے کہ الله تعالی اس دن جب پورے سال کی نسبت سب سے زیاده جہنم سے گردنوں کو آزاد فرمائے گا تو ہماری گردنوں کو بھی آزاد فرمادے. آمین یا رب العالمین۔

الجواب حامدا و مصلیا

مذکورہ بالا تحریر غلط ہے۔ اور یوم عرفہ  ہر ملک میں اپنی تاریخ کے اعتبار سے نو (9)  ذی الحجہ کو ہی ہوگا، اور اسی دن روزہ رکھا جائے گا۔ جس کی تفصیل یہ ہے  کہ :

نو(9)ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ‘‘کہنے کی  تین وجوہات بیان کی  گئی ہیں:

 1۔۔۔ ۔۔حضرت ابراہیم  کو آٹھ(8) ذی الحجہ کی رات خواب میں نظر آیا کہ وہ اپنے بیٹے کوذبح کر رہے ہیں، تو ان کو اس خواب کے اللہ تعالی کی طرف سے ہونے یا نہ ہونےمیں کچھ تردد ہوا،پھرنو(9)ذی الحجہ کو دوبارہ یہی خواب نظرآیا تو ان کو یقین ہو گیا کہ یہ خواب اللہ تعالی کی طرف سےہی ہے،چونکہ حضرت ابراہیم  کویہ معرفت اور یقین نو(9)ذی الحجہ کو حاصل ہوا تھا، اسی وجہ سے نو(9) ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ‘‘ کہتے ہیں۔

 2۔۔۔۔۔نو (9) ذی الحجہ کو حضرت جبرائیل نے حضرت ابراہیم کوتمام مناسکِ حج سکھلائے تھے، مناسکِ حج کی معرفت کی مناسبت سے نو(9)ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ‘‘ کہتے ہیں۔

 3۔۔۔۔۔نو(9) ذی الحجہ کو حج کرنے والے حضرات چونکہ میدانِ عرفات میں وقوف کیلئے جاتے ہیں،تو اس مناسبت سے نو(9)ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ بھی کہہ دیتے ہیں۔

 مذکورہ اقوال سے معلوم ہوا کہ نام  کے اعتبار سے’’یومِ عرفہ‘‘کوصرف وقوفِ عرفہ کے ساتھ خاص کرنا درست نہیں ہے، بلکہ یہ  نو(9)ذی الحجہ کامختلف وجوہات کی بناپردوسرا نام  رکھا گیاہے، یہی  وجہ ہے کہ  حاجی  کے لیے نو (۹) ذی الحجہ کو عرفات کے میدان میں  روزہ رکھنا جائز نہیں ہے، اگر یہ روزہ عرفہ کی وجہ سے ہوتا تو حاجی حضرات کے لیے روزہ رکھنا بھی جائز ہوتا،  لہٰذا یوم عرفہ  ہر ملک میں اپنی تاریخ کے اعتبار سے نو (9)  ذی الحجہ کوہوگا، مثلاپاکستان میں جس دن نو(9) ذی الحجہ ہوگی وہی دن ’’یومِ عرفہ‘‘کہلائے گا چاہےاس دن سعودی عرب میں یومِ عرفہ یعنی نو(9) ذی الحجہ ہو یا  نہ ہو۔

فی البناية - (4 / 211)

وإنما سمي يوم عرفة لأن جبريل - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - علم إبراهيم  صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  المناسك كلها يوم عرفة، فقال: أعرفت في أي موضع تطوف؟ وفي أي موضع تسعى؟ وفي أي موضع تقف؟ وفي أي موضع تنحر وترمي؟ فقال: عرفت فسمي يوم عرفة.

وفی تبيين الحقائق وحاشية الشلبي - (2 / 23)

قَوْلُهُ أَيْ تَفَكَّرَ أَنَّ مَا رَآهُ مِنْ اللَّهِ) أَيْ أَمْ مِنْ الشَّيْطَانِ فَمِنْ ذَلِكَ سُمِّيَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ فَلَمَّا رَأَى اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ عَرَفَ أَنَّهُ مِنْ اللَّهِ فَمِنْ ثَمَّ سُمِّيَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَلَمَّا رَأَى اللَّيْلَةَ الثَّالِثَةَ هَمَّ بِنَحْرِهِ فَسُمِّيَ يَوْمَ النَّحْرِ كَذَلِكَ فِي الْكَشَّافِ.

وفی العناية - (3 / 452)

فَلَمَّا أَمْسَى رَأَى مِثْلَ ذَلِكَ ، فَعَرَفَ أَنَّهُ مِنْ اللَّهِ تَعَالَى ، فَمِنْ ثَمَّ سُمِّيَ يَوْمَ عَرَفَةَ.... وَإِنَّمَا سُمِّيَ يَوْمُ عَرَفَةَ بِهِ لِأَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَّمَ إبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فَقَالَ لَهُ : أَعَرَفْت فِي أَيِّ مَوْضِعٍ تَطُوفُ ؟ وَفِي أَيِّ مَوْضِعٍ تَسْعَى ؟ وَفِي أَيِّ مَوْضِعٍ تَقِفُ ؟ وَفِي أَيِّ مَوْضِعٍ تَنْحَرُ وَتَرْمِي ؟ فَقَالَ عَرَفْت ، فَسُمِّيَ يَوْمَ عَرَفَةَ وَسُمِّيَ يَوْمُ الْأَضْحَى بِهِ لِأَنَّ النَّاسَ يُضَحُّونَ فِيهِ بِقَرَابِينِهِمْ .

وفی تفسير البغوي - (7 / 48)

 أمر في المنام أن يذبحه، وذلك أنه رأى ليلة التروية كأن قائلا يقول له: إن الله يأمرك بذبح ابنك هذا، فلما أصبح روي في نفسه أي: فكر من الصباح إلى الرواح، أمن الله هذا الحلم أم من الشيطان؟ فمن ثم سمي يوم التروية فلما أمسى رأى في المنام ثانيًا، فلما أصبح عرف أن ذلك من الله عز وجل، فمن ثم سمي يوم عرفة.

وفی الإنصاف - (3 / 244)

سمي يوم عرفة للوقوف بعرفة فيه وقيل لأن جبريل حج بإبراهيم عليه الصلاة والسلام فلما أتى عرفة قال عرفت قال عرفت وقيل لتعارف حواء وآدم بها.

وفی المغني  لابن قدامة - (3 / 112)

 فأما يوم عرفة فهو اليوم التاسع من ذي الحجة سمي بذلك لأن الوقوف بعرفة فيه وقيل سمي يوم عرفة لأن إبراهيم عليه السلام أري في المنام ليلة التروية أنه يؤمر بذبح ابنه فأصبح يومه يتروى هل هذا من الله أو حلم فسمي يوم التروية فلما كانت الليلة الثانية رآه أيضا فأصبح يوم عرفة فعرف أنه من الله فسمي يوم عرفة وهو يوم شريف عظيم وعيد كريم وفضلة كبير وقد صح عن النبي صلى الله عليه و سلم أن صيامه يكفر سنتين.

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

‏21‏ محرّم‏، 1440ھ

‏02‏ اکتوبر‏، 2018ء