13 Aug, 2020 | 23 Dhul Hijjah, 1441 AH

Question #: 2599

May 04, 2020

Assalamualikum warahmatullahi wabarkatuhu!... Agar kisi ko aqaaid ke baare me ese hi koi sawaal aajaye lkn vo foran apne mind me theek javaab bithaa len.. Mslan..mujeh achaanak khayaal aaya ek hi second k liye k Allah ke bivi bchche nhi.. Meujeh saaf maaloom huvaa k meri aqal is per javaab de rhi hai ke Allah ek hai vo tnhaa hai vo tmaam rishton se paak hai... M Isi traah k Miyaa biwi ka jo khaas rishta hai vo Allah ne insaano k liye bnaaya hai... Is per bhi baar baar mere dimaag me ye aaraahaa tha k beshak Allah tmam rishto se paak...uski naa oulaad hai or naa vo kisi ki aulaad hai.. To kiye vo galat swaal se insaan ka imaan faasid hojaata hai?? Or agar hojaata hai...to fir kiya us ko ghusal krnaa prhtaa hai?? Or is traah ki koi swaal aaye hi naa us k liye kiya kiyaa jaaye.? Jazakumullahu khayran katheera

Answer #: 2599

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اگر کسی کو عقائد كے بارے میں ایسے ہی کوئی سوال آجائے لیکن وہ فوراً اپنے دماغ میں ٹھیک جواب بِٹھا لیں . . مثلاً . . مجھ اچانک خیال آیا، ایک ہی سیکنڈ کے لیے کہ اللہ كے بیوی بچّے نہیں . . مجھے صاف معلوم ہوا کہ میری عقل اِس پر جواب دے رہی ہے كہ اللہ ایک ہے وہ تنہا ہے وہ تمام رشتوں سے پاک ہے… اسی طرح کے میاں بِیوِی کا جو خاص رشتہ ہے وہ اللہ نے انسانوں کے لیے بنایا ہے . . . اِس پر بھی بار بار میرے دماغ میں یہ آ رہا تھا کہ بے شک اللہ تمام رشتوں سے پاک ہے… اسکی نہ اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے . . تو کیا اس غلط سوال سے انسان کا ایمان فاسد ہوجاتا ہے ؟ ؟ اور اگر ہوجاتا ہے . . . تو پھر کیا اس کو غسل کرناپڑتا ہے ؟ ؟ اور اِس طرح کا کوئی سوال آئے ہی نہ اس کے لیے کیا کیا جائے . ؟ جزاکم اللہ خیرا کثیرا

الجواب حامدا ومصلیا

شیطانی وسوسہ سے  ایمان  زائل نہیں ہوتااور نہ ہی شیطان کے پاس اتنی طاقت  ہےکہ وہ وسوسہ کے ذریعہ کسی کا ایمان ختم کرسکے،بلکہ کفرو شرک اور فسق و فجورکے اس طرح کے  وسوسےآنا اور مسلمان کا ان  خیالات اور وساوس کو برا سمجھناخالص ایمان کی علامت ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺسے وسوسے کے بارے میں پوچھاگیاکہ دل میں کفر وشرک اور فسق وفجور کے وسوسے آتے ہیں ،ان کا کیا حکم ہے؟جواب میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ یہ خالص ایمان کی علامتیں ہیں ،لہذا ان کی وجہ سے مت گھبراؤ،اورمایوس بھی نہ ہو۔

ایک اور صحابی رضی اللہ عنہ نےپوچھاکہ اے اللہ کے رسول ﷺ!بعض اوقات ہمارے دل میں ایسے وسوسےاورخیالات  آتے ہیں کہ ان کوزبان سے بیان کرنے سے بہتر ہے کہ ہم  جل کر کوئلہ ہوجائیں،اس کے جوا ب میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ توایمان کی  علامت ہے۔

حقیقت اس کی یہ ہے کہ شیطان ایمان کا چوراور ڈاکو ہے،چور اور ڈاکو اسی گھر میں ڈاکہ ڈالتاہے جس گھر میں دولت ہو،اسی طرح شیطان بھی اسی دل میں کفرو شرک کے وسوسے ڈالتاہے جس میں ایمان کی دولت موجودہو،لہذاان خیالات اور وساوس سے بالکل  پریشان  نہیں ہوناچاہیے،اور نہ ہی اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس  پر مؤاخذہ فرمائیں گے۔آنحضرت ﷺ کاارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں جو وسوسے پیداہوتےہیں ،ان سے  درگذر اور معاف فرمایاہے، لہذا ان خیالات ووساوس  پر کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا، البتہ عمل پر مؤاخذہ ہوگا۔

لہذا صورت مسؤلہ میں اس طرح کے غلط خیالات اور وسوسوں کی وجہ سے اور اس کے بارےمیں  سوال  کرنےسے انسان کا ایمان فاسد نہیں ہوتا۔

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غَفَرَاللّٰہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

‏30‏ شوّال‏، 1441ھ

‏22‏ جون‏، 2020ء