23 Feb, 2019 | 17 Jamadil Akhir, 1440 AH

Question #: 2353

January 19, 2019

Assalamualikum Kuffar ke wasawis ki kasrat ki waja se buhat si kufar ki batain a jain. Or namaz main kufr ki baat ho jay jesay umar (ra) par hasna likin bhol kar. Jesa ke Imam sahab ke waqat main 1 rafzi ne 2 ghadhay palay hoe thay, 1 ka naam abu bakar or dosray ka naam umar rakha hoa tha. (Ilyaz bilAllah) Un main se 1 ne usay tanag mari jis se wo mar gaya. Imam abu hanifa ko pata chala tou kaha pata karo jis ka naam is ne umar rakha hoa tha usi ne mara ho ga tou aisa hi nikla. Is par hansi aa jai likin bhol kar or dil main is par aiteqaad bhi na ho tou kufr ka fatwa lagta hai ya nahi?

Answer #: 2353

السلام علیکم ! کفر کے وساوس کی کثرت کی وجہ سے بہت سی کفر کی باتیں آ جائیں اور نماز میں کفر کی بات ہو جائے جیسے عمر ؓ پر ہنسنا لیکن بھول کر۔ جیسا کہ امام صاحب کے وقت میں ایک رافضی نے دو گدھے پالے ہوئے تھے، ایک کا نام ابوبکر اور دوسرے کا نام عمر رکھا ہوا تھا(العیاذ باللہ) ان میں سے ایک نے اسے ٹانگ ماری جس سے وہ مر گیا۔ امام ابو حنیفہ کو پتا چلا تو کہا پتا کرو جس کا نام اس نے عمر رکھا ہوا تھا اسی نے مارا ہوگا تو ایسا ہی نکلا۔ اس پر ہنسی آ جائے لیکن بھول کر اور دل میں اس پر اعتقاد بھی نہ ہو تو کفر کا فتویٰ ہےیا نہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

شیطانی وسوسہ سے  ایمان  زائل نہیں ہوتااور نہ ہی شیطان کے پاس اتنی طاقت  ہےکہ وہ وسوسہ کے ذریعہ کسی کا ایمان ختم کرسکے،بلکہ کفرو شرک اور فسق و فجورکے اس طرح کے  وسوسےآنا اور مسلمان کا ان  خیالات اور وساوس کو برا سمجھناخالص ایمان کی علامت ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺسے وسوسے کے بارے میں پوچھاگیاکہ دل میں کفر وشرک اور فسق وفجور کے وسوسے آتے ہیں ،ان کا کیا حکم ہے؟جواب میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ یہ خالص ایمان کی علامتیں ہیں ،لہذا ان کی وجہ سے مت گھبراؤ،اورمایوس بھی نہ ہو۔

ایک اور صحابی رضی اللہ عنہ نےپوچھاکہ اے اللہ کے رسول ﷺ!بعض اوقات ہمارے دل میں ایسے وسوسےاورخیالات  آتے ہیں کہ ان کوزبان سے بیان کرنے سے بہتر ہے کہ ہم  جل کر کوئلہ ہوجائیں، اس کے جوا ب میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :یہ توایمان کی  علامت ہے۔

حقیقت اس کی یہ ہے کہ شیطان ایمان کا چوراور ڈاکو ہے،چور اور ڈاکو اسی گھر میں ڈاکہ ڈالتاہے جس گھر میں دولت ہو،اسی طرح شیطان بھی اسی دل میں کفرو شرک کے وسوسہ ڈالتاہے جس میں ایمان کی دولت موجودہو،لہذاان خیالات اور وساوس سے بالکل  پریشان  نہ ہوناچاہیے،اور نہ ہی اللہ سبحانہ وتعالٰی اس  پر مؤاخذہ فرمائیں گے۔آنحضرت ﷺ کاارشاد ہے کہ اللہ تعالٰی نے میری امت کے دلوں میں جو وسوسے پیداہوتےہیں ،ان سے  درگذر اور معاف فرمایاہے،لہذا ان خیالات ووساوس  پر کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا،البتہ عمل پر مؤاخذہ ہوگا۔

وسوسے تین قسم کے ہوتے ہیں :

  1. عقیدے کے بارے میں وسوسے،یعنی شیطان اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں انسان کے دل میں   وسوسے ڈالے کہ اس کو کس نے پیدا کیا ،وہ کہاں ہے ؟وہ نظر کیوں نہیں آتا،وغیرہ وغیرہ،یاآخرت کے بارے میں وسوسے ڈالے کہ پتہ نہیں, آئے گی بھی سہی یانہیں۔

اس طرح کے وسوسے کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے خود فرمایاکہ جب تک تم اپناعقیدہ درست رکھوگے تو کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا،چاہے خیالات اور وساوس کیسے بھی ہوں۔

مذکورہ بالاحکم کی وجہ سے ان بعض  لوگوں کوجو ان خیالات اور وساوس کی وجہ  سے  یہ سمجھتے  ہیں کہ وہ شیطان ہوگئے ہیں،یامنافق ہوگئے ہیں ،یا کافر ہوگئے ہیں، یاد رکھنا چاہیے کہ ان وساوس اور خیالات  سے کچھ نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے دل، اپنی زبان اورعمل سے مومن ہیں اور ان کو مطمئن ہوناچاہیے کہ یہ وساوس اور خیالات ان کےایمان کی علامت ہیں۔

  1. خیالات اور وساوس کی دوسری قسم یہ ہے کہ فسق وفجور کے خیالات  اور وساوس آتے ہیں،مثلا ً  دل میں یہ  خیال آئے کہ فلاں فلاں گناہ کرلوں ،یا کسی گناہ کی طرف کشش ہورہی ہے۔

اس قسم کے خیالات کا بھی یہی حکم ہے کہ جب تک ان خیالات اور وساوس پر عمل نہیں کرتا ان پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوتا۔

  1. خیالات اور وسوسوں کی تیسری قسم یہ ہے کہ جب کوئی انسان نیکی کا  کام کرنے لگتا ہے توشیطان  طرح طرح کے وسوسے اور خیالات ڈالنے لگ جاتاہے تاکہ انسان   عبادت اور نیکی کے  کام  سے رُک جائے۔مثلاً  نماز پڑھنے لگتاہے تو خیالات کا ایک سلسلہ  بندھ جاتاہے،کھانے پینے کاخیال،بیوی بچوں کاخیال،روزی،دکان،تجارت کا خیال،اورایسے ایسے خیالات آنے لگ جاتے ہیں کہ نماز سے پہلے دماغ میں  ان کادوردور تک کوئی ادنی ٰتصوربھی نہیں  ہوتا،جس کے نتیجے میں دماغ میں یہ خیال بڑی زور سے گردش  کرنے لگتاہے کہ تمہاری نماز تو اٹھک بیٹھک ہے،تمہاری عبادت کسی کھاتے کی بھی نہیں،اس طرح نماز پڑھنا نہ پڑھنادونوں برابرہے، وغیرہ ۔

خیالات کی اس قسم کا حکم یہ ہے کہ چونکہ یہ خیالات اور وساوس غیر اختیاری طور پر آرہے  ہیں ،اس لیے ان پر کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اپنے اختیاراور ارادے سے نہ لائے ،اور بے اختیار خیالات آنے کی صورت میں ان کو دل میں جمائے نہیں ۔ حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانوی ؒفرماتے ہیں کہ خیالات کاآناگناہ نہیں ، لانا گناہ ہے۔ 

اسی طرح اگردین کاکوئی اور کام کرناچاہتاہےتووہ دین کا کام سنت کے مطابق کرےاور ان خیالات کی بالکل پرواہ  نہ کرے  ۔

خیالات اور وسوسوں کا علاج  یہ ہے کہ انسان اپنی ارادی قوت کومضبوط کرےاورجوکام کرناچاہتاہےوہ کام کیے جائے اور ان خیالات کی طرف توجہ اور التفات نہ کرے،جب توجہ نہیں کریگاتویہ وسوسےخودبخود دور ہوجائیں گے۔اگرفارغ بیٹھنے کی وجہ سے خیالات اور وسوسے آرہے ہوں توفوراًکسی کام میں مشغول ہوجائے۔اور وساوس کے وقت "اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم"بھی بڑھے۔

دوران نماز آنےوالے  خیالات اور وسوسوں کودورکرنے کاطریقہ یہ ہے کہ توجہ اور دھیان نمازکے الفاظ اور اذکار کی طرف لگائے،ان کےالفاظ اور  معانی میں تدبر اور غور وفکر کرے۔اگر نماز کی طرف دھیان لگانے کے باوجود ذہن غیر اختیاری طور پرنماز سے بھٹک جائے تویاد آنے پر فوراً نماز کی طرف لوٹ آئے ،اور ذہن کے بھٹکنے پر افسوس بھی نہ کرے ،کیونکہ اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا،اور  عبادت کےآخر میں اللہ تعالی کاشکریہ بھی اداکرے کہ اُس نے عبادت کی توفیق بخشی ہے۔اس طرح کرنے سے وساوس اورخیالات کم ہوتے ہوتے ختم ہوجائیں گے،ان شاء  اللہ۔

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۱ ؍ جمادی الأول ؍ ۱۴۴۰ھ

28‏ ؍ جنوری ؍  2019ء