18 Jan, 2021 | 4 Jumada Al-Akhirah, 1442 AH

Question #: 2709

December 05, 2020

اسلامک انشورنس کے نام پر مختلف کمپنیاں تکافل پالیسی بنا تی ہیں انکی کیا حقیقت ہے اور ایسی کمپنیوں میں ملازمت کرنا کیسا ہے ؟

Answer #: 2709

اسلامک انشورنس کے نام پر مختلف کمپنیاں تکافل پالیسی بنا تی ہیں انکی کیا حقیقت ہے اور ایسی کمپنیوں میں ملازمت کرنا کیسا ہے ؟

الجواب حامدًا ومصلیًا

            جمہور علماءِ کرام کے نزدیک  کسی بھی قسم کی  بیمہ (انشورنس) پالیسی  سود اور قمار (جوا) کا مرکب  ومجموعہ ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، مروجہ انشورنس کے متبادل کے طور بعض  علماء کرام نے  ”تکافل “ کے نام سے ایک نظام متعارف کرایا ہے، جس کی بنیاد  انہوں نے  وقف کے قواعد  پر  رکھی ہے۔

            جوتکافل کمپنی  بحالاتِ موجودہ  مستند علماء کرام کی زیر نگرانی  اور مشاورت میں شرعی اصولوں کے مطابق کام کر رہی ہو اس کے ساتھ معاملہ کرنا اور اس کی پالیسی لینا  اور ملازمت کرنادرست ہے۔

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غَفَرَاللّٰہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

‏05‏ جمادى الأول‏، 1442ھ

‏20‏ دسمبر‏، 2020ء