29 Jan, 2023 | 7 Rajab, 1444 AH

Question #: 2664

August 14, 2020

اسلام علیکم! مین اپ سے اوریفلیم کپمنی کے بارے مین پوچھنا چاہتی ہوں اس میں ہمیں ممبر بنائے پرتے ہیں اور مہینہ کے اخر مین ہمیں جتنی سیل ہوتی ہے اس پر بونس ملتا ہے ییے بونس ا کچہ پوئنٹ پر ملتا جو کہ ہم تھوڑے کرتے ہیں باقی جن کو ہم نے ممبر بنایا ہوتا ہے اان کے نمبر ملا ک ہمیں بونس ملتا ہے اور پھر ٹائٹل ملتا ہے جیسے ہمیں 1800 پوئنٹ کرتے پر مینیجر کا ٹائٹل ملے گا اور اس میں سے میں نے 100 پوئنٹ کیۓ باقی دوسرے ممبران نے ان ک ملا کے مجھے مینیجر کا ٹائٹل ملے گا اور بونس بہی اس کے علاوہ مجھے 10000کی ہر مہینہ سیل بہی کرنی ہوتی ہے اب مجھ کو یے پوچھنا ہے ک کیا یہ کام سلام کیۓ مطابق جائز ہے اور اس سے جو کیون بونس ملتا ہے کیا وہ جائز ہے کہیں یہ سود یا حرام تو نہیں اور یہ سویڈن کی کمپنی یے جس کی پراڈاک میک اپ،جیولری اور شمپو وغیرہ ہیں مہربانی کر کے مجھے اس سلسلے میں وضاحتیں سے باتا دیں شکریہ

Answer #: 2664

الجواب حامدا ومصلیا

کمپنی کا جو طریقہٴ کار آپ نے تحریر فرمایا ہے وہ  ناجائز ہے کیونکہ :

  1. اس طریقہٴ کار  کے  اندر خریداری کے لیے ممبر بننا شرط ہے جو مقتضائے عقد کے خلاف ہے؛ لہٰذا یہ بیع کے فاسد ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ۔
  2. آپ نے ممبر بنانے پر جو بھاگ دوڑ کی ہے، محنت کی ہے، وقت لگایا ہے تو اس کی اجرت لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ پھر وہ ممبر دوسرے لوگوں کو ممبر بنائیں تو اس کا معاوضہ پہلے ممبر بنانے والے کو لینا جائز نہیں۔

            لہذا صورت مسؤلہ میں اس  کمپنی سے  ممبر بنانے کی شرط پر کوئی چیز  خریدنا اور اس کے لیے ممبر بنانا اور اس پر اجرت لینا جائز نہیں ہے، اس سے مکمل اجتناب کرنا ضروری ہے۔

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غَفَرَاللّٰہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ