23 May, 2019 | 18 Ramadan, 1440 AH

Question #: 2378

February 23, 2019

السلام علیکم میرا نکح مسجد ہوا تھا مگر رخستی نہیں ہوی میں اپنے ماں باپ کے ساتھ ہی رہتی ہوں رخستی سے پہلے ہی میرے شوہر نے مجھے طلاق شرطیا دی جو پوری ہوگی اور مجھے طلاق بائین ہوگی جس میں رجوع کی کوئی گنجائش نہیں. میں عدت کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں اس(شوہر) نے میرا ہاتھ پکڑا انگوٹھی پہھنائی گلے لگایا اور چوما بھی. تب گھر میں سب موجود تھے اور کمرے میں سب آ اور جا رہے تہے میں اس ک پاس ہی بیٹھی تھی مگر یہ سب تب ہوا جب کوئی کمرے میں نہیں تھا انگوٹھی پہناتے ہوئے گھر والے پاس تھے سب کے ادر اُدر ہوتے ہی اس نے موقے کا فائدہ اٹھایا اور زبردستی اپنے پاس کرلیا خلوت تھی کچھ بھی ہوسکتا تھا مگر بس اپنے پاس کر کے گلے لگایا اور چوما ... اس میں عدت کا کیا حکم ہے کیا عدت واجب ہوئی یاں نہیں . کیوں کہ سوره احزاب میں آیا ٤٩ نے مجھے شبہ میں ڈال دیا ہے جزاکم للہ خیر

Answer #: 2378

السلام علیکم! میرا نکاح مسجدمیں ہوا تھا مگر رخصتی نہیں ہوئی۔ میں اپنے ماں باپ کے ساتھ ہی رہتی ہوں۔ رخصتی سے پہلے ہی میرے شوہر نے مجھے طلاقِ شرطیہ دی جو پوری ہوگئی اور مجھے طلاق بائن ہوگئی جس میں رجوع کی کوئی گنجائش نہیں۔ میں عدت کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں، اس(شوہر) نے میرا ہاتھ پکڑا،  انگوٹھی پہنائی، گلے لگایا اور چوما بھی۔  تب گھر میں سب موجود تھے اور کمرے میں سب آ  اور جا رہے تھے۔ میں اُس کے پاس ہی بیٹھی تھی مگر یہ سب اس وقت ہوا جب کوئی کمرے میں نہیں تھا ۔انگوٹھی پہناتے ہوئے گھر والے پاس تھے، سب کے اِدھر اُدھر ہوتے ہی اُس نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور زبردستی اپنے پاس کرلیا ، خلوت تھی، کچھ بھی ہوسکتا تھا ، مگر بس اپنے پاس کر کے گلے لگایا اور چوما... اس میں عدت کا کیا حکم ہے،  کیا عدت واجب ہوئی یا نہیں؟   کیوں کہ سورۃ  احزاب میں آیۃ  ٤٩ نے مجھے شبہ میں ڈال دیا ہے جزاکم اللہ خیرا۔

طلاقِ شرطیہ کا  مطلب یہ ہے کہ اس نے کہا کہ:  . last warning answer my phone or meri terf se b azad ho

(آخری وارننگ میرے فون کا جواب دو یا میری طرف سے بھی آزاد ہو)    یہ میسج  اس نے مجھے ٣٠ دسمبر ٢٠١٨  میں فون پر کیا۔ اور شوہر کہتا ہے کہ میری نیت نہیں تھی  طلاق دینے کی اور نہ ہی مجھے علم ہے کہ "میری طرف سے آزاد ہو "،  کا مطلب طلاق ہوتا ہے. ...

اس کی وجہ   یہ ہے کہ ہمارا کسی بات پر جھگڑا ہوا تھا اور وہ مجھے بار بار کال کر رہا تھا میں نے کال نہیں اٹھائی جس پر اس نے مجھے یہ میسج بھیجا (جو اوپر لکھا ہے ) اور میں بھی جان چھڑانا چاہتی تھی اسلئے میں نے کال نہیں اٹھائی اس میسج کے آنے کے بعد بھی نہیں اٹھائی۔  وہ بات بات پر مجھ سے جھگڑتا تھا اور میری ہر بات کو جھوٹ کہتا تھا اور تذلیل آمیز رویہ تھا میرے ساتھ۔ ہمارا رابطہ فون پر ہی تھا ... مگر وہ ہمارے گھر آیا تھا تو تب ملاقات بھی ہوئی تھی ۔ اس سے قبل ایک بار مجھے یہ بھی کہا کہ میں اس نکاح سے خوش نہیں ہم ابھی سے الگ ہوجاتے ہیں کیوں کہ میری ماں میری دوسری شادی کرنا چاہتی ہیں کیوں کہ وہ نکاح میں شامل نہیں تھیں... تم اس شادی سے منع کردو.  نکاح میں میری طرف سے میرے سب گھر والے تھے اور شوہر کی طرف سے وہ اور انکا سرپرست .اور یہاں تک  کہ نکاح پر بھی شبہ کیا کہ  ہمارا نکاح ٹھیک سے نہیں ہوا کیوں کہ نکاح خواں نے ایک ہی دفع ایجاب اور قبول  کروایا میری بہن کی شادی میں ٣ دفع ہوا تھا ایجاب و قبول ۔ برائے مہربانی  بتائیں کہ مندرجہ  بلا  صورت حال کے بارے میں شریعت کے کیا احکام ہیں؟

تنقیح:  سوال کے جواب سے پہلے مندرجہ ذیل وضاحت مطلوب ہے:

1.        نکاح کے بعد کیا آپ  اور آپ کے شوہر کے درمیان ایسی  خلوت ہوئی تھی کہ اگر   آپ میاں بیوی کی طرح ملتے (ہمبستری کرتے ) تو مل سکتے  یا ایسی خلوت نہیں ہوئی تھی؟  آپ کے اس جملہ کا کہ  ’’خلوت تھی، کچھ بھی ہوسکتا تھا‘‘ کا کیا مطلب ہے؟

2.     یہ جو آپ نے لکھا ہے ’’مگر وہ ہمارے گھر آیا تھا تو تب ملاقات بھی ہوئی تھی‘‘ تو یہ طلاق دینے سے پہلے   کی بات ہے یابعد کی؟ ۔

جواب تنقیح:

1.     جی خلوت ہوئی تھی ’’خلوت تھی، کچھ بھی ہوسکتا تھا‘‘  کا مطلب یہی ہے کہ اگر میاں بیوی کی طرح ملتے (ہمبستری کرتے)  تو مل سکتے تھے  مگر ایسا معاملہ نہیں ہوا،  بس اس نے مجھے گلے لگایا اور چوما۔

2.     یہ طلاق دینے سے پہلے کی بات ہے جب وہ آیا تھا۔

الجواب حامدا ومصلیا

آپ نے جوصورت ذکر کی ہے  اگر یہ درست ہے تو چونکہ اس میں  ایسی تنہائی میسر آگئی  تھی ،  کہ جس میں صحبت ممکن تھی، اس لیے شرط پورا ہونے پر ایک طلاق  بائن واقع   ہوچکی ہے، اور اس طلاق کی وجہ سے عدت بھی واجب ہوگی۔ اور  اسی  شوہر کے ساتھ  رہنے کے لیے  باہمی رضامندی سے نیا نکاح  نئے مہر کے ساتھ  کرنا ضروری ہوگا ۔

فی الدر المختار - (3/ 114)

(والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء (بلا مانع حسي) كمرض لأحدهما يمنع الوطء (وطبعي) كوجود ثالث عاقل ذكره ابن الكمال، وجعله في الأسرار من الحسي، وعليه فليس للطبعي مثال مستقل (وشرعي) كإحرام لفرض أو نفل. (و) من الحسي (رتق) بفتحتين: التلاحم (وقرن) بالسكون: عظم (وعفل) بفتحتين: غدة (وصغر) ولو بزوج (لا يطاق معه الجماع (بل المانع صوم رمضان) أداء وصلاة الفرض فقط (كالوطء) فيما يجيء (ولو) كان الزوج (مجبوبا أو عنينا أو خصيا) (في ثبوت النسب) ولو من المجبوب (و) في (تأكد المهر) المسمى (و) مهر المثل بلا تسمية و (النفقة والسكنى والعدة وحرمة نكاح أختها وأربع سواها) في عدتها.

وفی حاشية ابن عابدين (3/ 119)

قوله ( وكذا في وقوع طلاق بائن آخر الخ ) في البزازية والمختار أنه يقع عليها طلاق آخر في عدة الخلوة وقيل لااه

 وفي الذخيرة وأما وقوع طلاق آخر في هذه العدة فقد قيل لا يقع وقيل يقع وهو أقرب إلى الصواب لأن الأحكام لما اختلفت يجب القول بالوقوع احتياطا ثم هذا الطلاق يكون رجعيا أو بائنا ذكر شيخ الإسلام أنه يكون بائنا اه

 ومثله في الوهبانية وشرحها . والحاصل أنه إذا خلا بها خلوة صحيحة ثم طلقها طلقة واحدة فلا شبهة في وقوعها فإذا طلقها في العدة طلقة أخرى فمقتضى كونها مطلقة قبل الدخول أن لا تقع عليها الثانية لكن لما اختلفت الأحكام في الخلوة أنها تارة تكون كالوطء وتارة لا تكون جعلناها كالوطء في هذا فقلنا بوقوع الثانية احتياطا لوجودها في العدة والمطلقة قبل الدخول لا يلحقها طلاق آخر إذا لم تكن معتدة بخلاف هذه

 والظاهر أن وجه كون الطلاق الثاني بائنا هو الاحتياط أيضا ولم يتعرضوا للطلاق الأول .  وأفاد الرحمتي أنه بائن أيضا لأنه طلاق قبل الدخول غير موجب للعدة لأن العدة إنما وجبت لجعلنا الخلوة كالوطء احتياطا فإن الظاهر وجود الوطء في الخلوة الصحيحة ولأن الرجعة حق الزوج وإقراره بأنه طلق قبل الوطء ينفذ عليه فيقع بائنا وإذا كان الأول لا تعقبه الرجعة يلزم كون الثاني مثله اه . ويشير إلى هذا قول الشارح طلاق بائن آخر فإنه يفيد أن الأول بائن أيضا.  

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۰۶ ، رجب المرجب ، ۱۴۴۰ھ

‏13‏ ، مارچ ‏، 2019ء