19 Apr, 2019 | 13 Shaban, 1440 AH

Question #: 2393

March 16, 2019

اگر پہلی طلاق کے بعد ایک حیض آیا اور اسکے بعد دوسری طلاق کا دے دی پھر ایک حیض آیا اور اسکے بعد تیسری طلاق ہوگئ تو کیا اب تیسری طلاق کے بعد دوبارہ سے تین حیض کی عدت شروع ہوگی؟ تیسری طلاق کے بعد ایک حیض آچکا ہے۔۔۔ پہلی طلاق سے حساب لگاؤ تو تیسرا حیض ہو چکا ہے۔ تو جاننا یہ ہے کے عدت پوری ہوگئی یا تیسری طلاق کے بعد سے دوبارہ سے عدت شروع ہوئی ہے؟ اگر ہاں تو کیا یہ چھ حیض کی عدت نہیں بن جاتی جبکہ میں نے سنا ہے عدت تین حیض تک کی ہوتی ہے؟

Answer #: 2393

الجواب حامدا ومصلیا

اگر شوہر نے  پہلی اور دوسری طلاق کے بعد رجوع نہیں کیا تو عدت پہلی طلاق کے بعد سے ہی شمار ہوگی، صورت مسئولہ میں پہلی طلاق کے بعد تین حیض آ چکے ہیں، لہٰذا عدت   ختم ہو چکی ہیں۔

الجوهرة النيرة (4/ 103)

( وطلاق السنة أن يطلق المدخول بها ثلاثا في ثلاثة أطهار ) ، وهو أن يطلقها تطليقة في طهر لا جماع فيه ثم إذا حاضت وطهرت طلقها أخرى ثم إذا حاضت وطهرت طلقها أخرى فقد وقع عليها ثلاث تطليقات ومضى من عدتها حيضتان فإذا حاضت أخرى انقضت عدتها.

المبسوط للسرخسي (6/ 6)

فإذا أراد أن يطلقها ثلاثا طلقها بعد ما تحيض وتطهر ثم يدعها حتى تحيض وتطهر ثم يطلقها أخرى فكانت قد بانت منه بثلاث تطليقات وبقي عليها من عدتها حيضة.

البحر الرائق (3/ 259)

إذا وقع عليها ثلاث تطليقات في ثلاثة أطهار فقد مضى من عدتها حيضتان إن كانت حرة لأن العدة بالحيض عندنا وبقيت حيضة واحدة فإذا حاضت حيضة أخرى فقد انقضت عدتها.

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۸ ، رجب المرجب ، ۱۴۴۰ھ

25 ، مارچ ، 2019ء