23 May, 2019 | 18 Ramadan, 1440 AH

Question #: 2382

March 04, 2019

Assalam o alikum. Mra dost phly rafah e dain nahin krta tha.. usnay sahih bukhari ma hadees prhi jo k hazrat Abdullah bin umar(ra) say marvi ha js ma ruku ma jatay huy or ruku sy uthty huy dono hath kndhon tk uthany ka byaan ha tou us nay rafah e dain shuru krdia.. us nay mry kehny pr k fiqah handi ma nahin krty kaha k kahin mana b ni kia gya h rafah e dain sy.. phr ek din kaha k ma is hawalay sy bara preshan hon ap ksi aalim sy koi Book or reference puch dain js ma lkha ho k rafa e dain nahin krna chayay. JazakAllah

Answer #: 2382

سوال

میرا دوست پہلے رفع یدین نہیں کرتا تھا... اس سے صحیح بخاری میں حدیث پڑھی جو کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہےجس میں رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھانے کا بیان ہے تو اُس نے رفع یدیں شروع کردیا . . اُس نے میری کہنے پر کہ ’’فقہ حنفی میں نہیں کرتے‘‘  کہا کہ کہیں منع بھی نہیں کیا گیا ہے رفع یدیں سے . . پھر ایک دن کہا کہ میں اِس حوالے سے بڑا پریشان ہوں آپ کسی عالم سے کوئی کتاب اور حوالہ  پوچھ دیں جس میں لکھا ہو کہ رفع یدیں نہیں کرنا چاہیے . جزاک اللہ

الجواب حامدا ومصلیا

پہلے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین میں ائمہ اربعہ کے درمیان جو اختلاف ہے،وہ افضلیت اور عدم افضلیت کا ہے۔

شافعیہ اور حنابلہ رحمھم اللہ کے نزدیک ان دونوں مواقع پر رفع یدین افضل ہے،جبکہ امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمھما اللہ کے نزدیک ان دونوں موقعوں پر ہاتھ نہ اٹھانا افضل ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں عشرہ مبشرہ ،یعنی: حضرت ابوبکر صدیق،حضرت عمر،حضرت عثمان، حضرت علی،حضرت طلحہ بن عبیداللہ ،حضرت زبیر بن العوام،حضرت عبدالرحمن بن عوف ،حضرت سعد بن ابی وقاص،حضرت سعید بن زید،حضرت ابو عبیدہ بن الجراح،اور دیگر جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، مثلاً،افقہ الصحابہ حضرت عبداللہ بن مسعود،حضرت ابو ھریرہ،حضرت براءبن عازب،حضرت عبا د بن زبیررضی اللہ عنہم وغیرہ حضرات سے عملا ًیا تصدیقاً مذکورہ مواقع پر ہاتھ نہ اٹھانا ثابت ہے۔

دیکھیے: (معارف السنن:ج۲ـ۴۶۴وعمدۃ القاری:ج۵۔۲۷۲ او جزالمسالک ص۲۰۸نقلاًعن البدائع ج۱۔۲۰۷)

نیز حضرت علیؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓکے جلیل القدر اصحاب اور شاگردوں کے علاوہ بے شمار تابعین مذکورہ مواقع میں رفع یدین نہ کرنے پر عمل کرتے  رہے ہیں،اسی طرح حضرت ابراہیم نخعیؒ،حضرت علقمہ ؒ،حضرت امام شعبیؒ،اور ابو اسحاق سبیعیؒ وغیرہ جیسے فقہا کرام ؒسے رفع یدین نہ کرنا ثابت ہے۔

ابوبکر عیاشؒ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی فقیہ کو تکبیرِتحریمہ کے علاوہ رفع یدین کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (طحاوی شریف : ۱ / ۱۱۲)

رفع یدین نہ کرنے کی احادیث عملاً متواتر ہیں اور عالمِ اسلام کےدو بڑے مراکز:مدینہ طیبہ اور کوفہ تقریباًترکِ رفع یدین پر عمل پیرا رہے ہیں ۔(نیل الفرقدین فی رفع الیدین )  

قرآن مجید میں باری تعالی کا ارشاد ہے:

{وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: 238]

                اور اللہ کے سامنے باادب فرمانبردار بن کر کھڑے ہوا کرو۔

اس ارشادِربانی کا تقاضا یہ ہے کہ نماز میں حرکت کم سے کم ہو،لہذا جن احادیث میں حرکتیں کم منقول ہیں وہ اس آیت کے زیادہ مطابق ہوں گی،اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ترک ِرفع یدین کی روایات القرآن  کے زیادہ موافق   ہیں ۔

ترمذی میں روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓنے فرمایا: کیا میں تمہیں حضورﷺ جیسی نماز پڑھ کی نہ دکھاوں ؟چناچہ آپ نے نماز پڑھی اور پہلی مرتبہ (تکبیرِتحریمہ کے وقت )رفع یدین کرنے کے علاوہ کسی اور جگہ رفع یدین نہیں کیا۔امام ترمذی ؒ فرماتے ہیں کہ بے شمار اہل علم صحابہِ کرام اور تابعین اسی کے قایل ہیں ۔(ترمذی۱صفحہ ۵۹)اسی طرح ابوداو،نسائی ،مصنف ابن ابی شیبہ اور السنن الکبری للبہیقیؒ نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔

ابو داود میں حضرت براءبن عازبؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرمﷺ جب نماز شروع فرماتے  تو دونوں کوہاتھ کانوں کے قریب تک لے جا کر رفع یدین کرتے پھر (کسی) جگہ نہ کرتے، دارِقطنی میں حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺنماز کے شروع میں رفع یدین کرتے پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے۔

شرح معانی الاثار اور کشف الاستار میں حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھم سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا رفع یدین سات مقامات پر کیا جائے :نماز کے شروع میں ،بیت اللہ کی زیارت کے وقت ،صفاہ مروہ پر ،عرفات ومزدلفہ میں وقوف کے وقت اور رمی جمار کے وقت۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے  نبی اکرم ﷺ  ،حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ  کے ساتھ نماز پڑھی ہے ،ان سب نے رفع یدین  نہیں کیا  مگر پہلی تکبیر کے وقت، نماز کے شروع میں۔ (دار ِقطنی:ج۱ ؍۲۹۵،بہیقی ج۲؍۷۹)

حضرت عاصم بن کلیب ؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں  کہ حضرت علیؓ نماز کی پہلی تکبیر میں رفع یدین کرتے تھے پھراس کے بعد رفع یدین نہیں کرتے تھے ۔

امام مالک ؒ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا رفع یدین کو نماز کے کسی بھی تکبیر میں  نہ جھکتے ہوئے نہ اٹھتے ہوئے  سوائے ابتداءِ نماز کے ۔(المدوّنۃ الکبری)

خلاصہ کلام یہ کہ مذکورہ دلائل اور ان کے علاوہ بے شما ر دیگر روایات  اور آثارِ صحابہؓ وتابعین کی بناء پر احناف رفع یدین نہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ہاتھ نہ اٹھانے کو افضل قرار دیتے ہیں ،لہذا یہ کہنا کہ حضورِ اکرمﷺ سے عدم ِ رفع یدین ثابت نہیں ہے ،بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔                                                       

صحيح مسلم (1 / 322):

عن جابر بن سمرة، قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «ما لي أراكم رافعي أيديكم كأنها أذناب خيل شمس؟ اسكنوا في الصلاة» كذا في سنن أبي داود (1 / 262)

مسند الحميدي (1 / 515):

سالم بن عبد الله، عن أبيه، قال: «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا افتتح الصلاة رفع يديه حذو منكبيه، وإذا أراد أن يركع، وبعد ما يرفع رأسه من الركوع فلا يرفع ولا بين السجدتين»

سنن أبي داود (1 / 200):

عن البراء، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «كان إذا افتتح الصلاة رفع يديه إلى قريب من أذنيه، ثم لا يعود»

مصنف ابن أبي شيبة (1 / 213):

عن البراء بن عازب، «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا افتتح الصلاة رفع يديه، ثم لا يرفعهما حتى يفرغ»

مصنف ابن أبي شيبة (1 / 213):

 عن عبد الله، قال: ألا أريكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ «فلم يرفع يديه إلا مرة»

مصنف ابن أبي شيبة (1 / 213):

عن الشعبي، «أنه كان يرفع يديه في أول التكبير، ثم لا يرفعهما»

سنن الترمذي (2 / 40):

عن علقمة، قال: قال عبد الله بن مسعود: «ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فصلى، فلم يرفع يديه إلا في أول مرة»

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۲۷ ، جمادی الثانی ، ۱۴۴۰ھ

05‏  ، مارچ‏، 2019ء