08 Dec, 2021 | 3 Jumada Al-Awwal, 1443 AH

Question #: 2862

September 21, 2021

السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت صاحب پوچھنا یہ تھا کہ اگر یو ٹیوب پر کچھ اسلامی چینل والوں نے اپنی درس نظامی کی وڈیوز بنائی ہوئی ہوں جس میں معلم صاحب بھی وڈیو میں نظر آرہے ہوں تو کیا وہ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ کہنا قابل ذکر ہے کہ وہ یہ وڈیوز بہت محنت سے اور تفصیلی بناتے ہیں اور انسان اپنے فارغ وقت میں بار بار دیکھ کر اپنے علم کو پختہ کر سکتا ہے لیکن قباحت وہی تصویر والی ہے۔ یو ٹیوب کے اشتہارات کو بلاک کرنے کے لیے ایڈ بلاکر کے استعمال سے کوئی اشتہار نہیں آتا۔اکابر فرماتے ہیں کہ تصویر کو دیکھنا بھی نہیں چاہیے۔ تو کیا دین کا علم حاصل کرنے کیلیے بھی تصویر کو نہیں دیکھ سکتے جب کہ مقصود علم دین کا حاصل کرنا ہے نہ کہ تصویر دیکھنا۔ اب اس سلسلے میں آپ سے رہنمائی و تسلی بخش جواب کی درخواست ہے۔ جزاک اللہ خیراً کثیرا فی الدارین۔

Answer #: 2862

الجواب حامدا ومصلیا

طالبات کے لیے  مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے مرد اساتذہ کرام کی بار بار تصویر دیکھیں ۔

سبق  اور علم دین  آڈیو  بھی سن کر یاد کیا جاسکتا  ہے۔ اگر کوئی ویڈیو ہو  تو اس  کو اونچی آواز میں چلا کر ایک طرف  رکھ دیں اور سبق یا بیان سنتی رہیں اور تصویر کو نہ دیکھیں۔

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق غَفَرَاللہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ