23 Jul, 2021 | 13 Dhul Hijjah, 1442 AH

Question #: 2830

June 29, 2021

Is it permissible to keep photo of any Shaykh aur Ulema on whatsapp as profile picture?

Answer #: 2830

الجواب حامدا ومصلیا

ڈیجیٹل کیمرے کے ذریعے بنائی گی تصویرکا اگر پرنٹ لیا جائے یا انہیں پائیدار طریقے سے کسی چیز پر نقش کر لیا جائے تو شرعاً ان پر تصویر کے احکام جاری ہوں گے ۔البتہ اگر ان کا پرنٹ نہ لیا جائے یا پائیدار طریقے سے کسی چیز پر نقش نہ کیا جائے تو ان کے تصویر ہونے میں حضراتِ علماء کرام  کی تین رائیں ہیں :

۱۔ بعض حضراتِ علماءِ کرام کے نزدیک ان پر تصویر کے احکام جاری ہوتے ہیں۔

۲۔ بعض حضراتِ علماءِ کرام کے نزدیک ان پر تصویر کے احکام جاری نہیں ہوتے ہیں۔

۳۔ بعض حضراتِ علماءِ کرام کے نزدیک اگرچہ تصویر ہیں ۔لیکن چونکہ ان کے بحکم ِ تصویر ہونے یا نہ ہونے میں ایک سے زیادہ فقہی آراء ہیں لہذا مجتہد فیہ ہونے کی بناء پر بقدر حاجتِ شرعیہ مثلاً جہاد وغیرہ کے موقع پر ان کے استعمال کی گنجائش ہے۔ لہذا صورت مسؤلہ میں   واٹس اپ  پرپروفائل پکچر پراپنے علماء یا  شیخ کی تصویر لگا نے سے احتیاط بہتر ہے۔

تکملۃ فتح الملھم _ /۱۶۴)

فان کانت صور الانسان حیۃ بحیث تبدو علی الشاشۃ فی نفس الوقت الذی یظھر فیہ الانسان امام الکیمرا ، فان الصورۃ لا تستقر علی الکیمرا ولا علی الشاشۃ   ،وانما ھی اجزاء کھربائیۃ  تنتقل من الکیمرا الی الشاشۃ وتظھر علیھا بترتیبھا الاصلی ، ثم تفنی وتزول ۔ واما اذا احتفظ بالصورۃ فی شریط الفیدیو ، فان الصور لاتنقش علی الشریط ، وانما تحفظ فیھا الاجزاء الکھربائیۃ  التی لیس فیھا صورۃ فاذا ظھرت ھذہ الاجزاء علی الشاشۃ ظھرت مرۃ  اخری بذلک الترتیب الطبیعی ، ولکن لیس لھا ثبات ولا استقرار علی الشاشۃ ، انما ھی تظھر وتفنی ۔ فلا یبدو ان ھناک مرحلۃ من المراحل تنتقش فیھا الصورۃ علی شیء بصفۃ مستقرۃ او دائمۃ ۔وعلی ھذا فتنزیل ھذہ الصورۃ المستقرۃ مشکل۔

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق غَفَرَاللہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ