26 Sep, 2020 | 8 Safar, 1442 AH

Question #: 2635

June 29, 2020

Assalamualaikum wrb Mere sawalat kuch is tarha hain 1) Is aajizah ne zindagi me bahut bade bade gunah kiye hain. Allah un gunahon ki kaise parda poshi kare aur unko dusron ke samne ane se roke rakhe unhen maaf farmaye. 2) is ajizah ke ghar me sabhi ahle hadees hain. Hum kya karen ke Allah unko rahe raast pe laye 3) humara rishta jis ladke ke sath hua hai wo ladka duniya parast had darje ka hai. Kehta hai ke hume jeans pehanani hogi aur usko pasand nahi ladkiyan ghar me rahen. Wo Europe shift hona chahta hai. Allah ne usko duniya ki har cheez ata ki hai. Maal doulat khubsurti aqal (gold medalist hai PhD aur scientist hai). Mere paas kuch nahi hai. Mujhe Allah pe kabhi kabhar ghussa aa jata hai ke Allah ne kaise neechla banaya hume mere abbu ko chin kar😭. Rishta todne ka sawal hi paida nahi hota. Hum kya karen 😭 4) Allah se doulat izzat shohrat mangne ka wazifa batayiye

Answer #: 2635

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرے سوالات کچھ اِس طرح ہیں:

  1. اِس عاجزہ نے زندگی میں بہت بڑے بڑے گناہ کیے ہیں، اللہ ان گناہوں کی کیسے پردہ پوشی کرے اور ان کو دوسروں كے سامنے آنے سے روکے رکھے اُنہیں معاف فرمائے۔
  2. اِس عاجزہ كے گھر میں سبھی اہل حدیث ہیں، ہم ایسا کیا کریں كہ اللہ ان کو راہ  راست پہ لائے۔
  3. ہمارا رشتہ جس لڑکے كے ساتھ ہوا ہے وہ لڑکا دُنیا پرست حد درجے کا ہے، کہتا ہے كہ ہمیں جینز پہننی ہوگی اور اسکو پسند نہیں لڑکیاں گھر میں رہیں، وہ یورپ شفٹ ہونا چاہتا ہے، اللہ نے اس کو دُنیا کی ہر چیز عطا کی ہے، مال ودولت خوبصورتی عقل ( گولڈ میڈلسٹ ہے پی ایچ ڈی اور سائنٹسٹ ہے )۔
  4.  میرے پاس کچھ نہیں ہے، مجھے اللہ پہ کبھی کبھار غصہ آ جاتا ہے كہ اللہ نے کیسے نچلا بنایا ہمیں میرے ابو کو چھین کر۔ رشتہ توڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہم کیا کریں؟
  5. اللہ سے دولت، عزت، شہرت مانگنے کا وظیفہ بتائیے۔

الجواب حامدا ومصلیا

  1. اللہ تعالیٰ سے پکی سچی توبہ کرنی چاہیے اور دعا کرنی چاہیے ۔  دوسرے  کے عیب  پر آپ پردہ ڈالیں اللہ تعالی آپ کے عیبوں پر پردہ ڈال دے گے۔
  2. ان کے ساتھ اخلاق سے پیش آنا چاہیے ۔ آپس میں  بحث و مباحثہ سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ ان کے لیے دعا کرتے رہنا  چاہیے۔
  3.   اگر   وہ اسلام کے مطابق زندگی گذارنے میں آزادی نہیں  دے گا تو کسی اور مناسب رشتہ کا انتظار کرلینا چاہیےاور اس کے بارے میں مزید  اپنے خاندان کے بڑوں سے بھی مشورہ کرلینا چاہیے۔
  4. اللہ تعالیٰ نے ہر  انسان کو بہت کچھ دیا ہے۔   اللہ تعالی کے ہر انسان پر بے شمار احسانات ہیں۔ جو کچھ مل گیا ہے اس پر شکر ادا کرنا چاہیے۔اور یہ خیال کرنا چاہیے کہ میں تو اس کے قابل بھی نہیں، بس یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔  اپنی زندگی اپنےسے  اونچے لوگوں کو دیکھ کر نہ گذارے بلکہ اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھ زندگی گذارے اور جو نعمتیں نے اللہ تعالیٰ دی ہیں ان پر شکر ادا کرے۔ حضرت شیخ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ  ایک مرتبہ میرا جوتا نہیں تھااور میں افسردہ دل ہوکر ننگے پاؤں  مسجد کی طرف روانہ ہوا، راستے میں میری نظر ایک ایسے شخص پر پڑی کہ جس کے  پاؤں نہیں تھے  ، تو وہ فرماتے ہیں کہ میں نے فوراً اللہ کا شکر ادا کیا کہ یا اللہ آپ کا شکر ہے کہ آپ نے  مجھے پاؤں تو دیے ہیں ۔ دنیوی حرص  میں مالدار لوگوں پر  نگاہ نہ رکھیں اس سے  نا شکری کی عادت بن جاتی ہے اور اپنی زندگی بے سکون ہوجاتی ہے۔   اور یہ کہنا بہت ہی برا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ پر غصہ آتا ہے، اس پر آپ کو توبہ و استغفار کرنا چاہیے
  5. اللہ تعالی سے  دین پر  چلنامانگنا چاہیے۔ شہرت اچھی چیز نہیں ہے۔ اور عزت کے  لیے ’’یَا مُعِزُّ ‘‘ پڑھنا چاہیے۔

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غَفَرَاللّٰہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

‏24‏ محرّم‏، 1442ھ

‏13‏ ستمبر‏، 2020ء