04 Apr, 2020 | 10 Shaban, 1441 AH

Question #: 2560

February 06, 2020

Asa wr wb, sir k bal km hony ke sorat m insan k jism k kisi hissy s bal ly kr apny he sir k balun ke jga transplant krana jaiz hoga? JazakALLAH Khair

Answer #: 2560

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! سر کے بال کم ہونے کی صورت میں انسان کے جسم کے کسی حصے سے بال لے کر اپنے ہی سر کے بالوں کی جگہ ٹرانسپلانٹ کرنا جائز ہوگا؟ جزاک اللہ خیرا

الجواب حامدا ومصلیا

بذریعہ  سر جری  (Hair Transplantation)  آدمی  کے اپنے  جسم کے بال جڑ سمیت نکال کر بطور  علاج  اپنے سر میں لگوانے کی  بقدر ضرورت  گنجائش ہے لہذا اگر کسی کے سر کے بال کسی مرض  کی وجہ سے یاقدرتی  طور پر وقت سے پہلے  گرگئے ہوں اور بالوں  کو اگانے کے لیےا ور کوئی طریقہ  علاج  نہ ہو تو اس صورت  میں مذکورہ ٹرانسپلانٹ بطور  علاج اختیار کرنے کی گنجائش  ہے کیونکہ یہ ازالہ  عیب اورعلاج ہے۔ البتہ  چونکہ  بڑھاپے  میں مرد کے لیے بال نہ ہونا یا کم ہونا اس درجے  کا عیب شمار  نہیں کیا جاتا کہ  جس کی وجہ سے مذکورہ  ٹراسپلانٹ  کرانے کی اجازت ہو اس لیے  ایسے شخص کے لیے مذکورہ  ٹرانسپلانٹ  کی گنجائش معلوم نہیں ہوتی ۔

            واضح رہے  کہ مذکورہ ٹراسپلانٹ  کے ذریعہ  اگر بال اصل بال کی طرح  بدن کا حصہ  بن جاتے ہوں تو ان پر وضو اور غسل بھی جائز ہوگا اوراحرام سے حلال ہونے کے لیے انہی بالوں کو کترانا ( قصر کرنا )  یامونڈانا  واجب  ہوگا ۔

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غَفَرَاللّٰہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

‏22‏ جمادى الثانی‏، 1441ھ

‏17‏ فروری‏، 2020ء