26 Sep, 2020 | 8 Safar, 1442 AH

Question #: 2509

October 26, 2019

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ. محترم مفتی صاحب، سوال یہ ہے کہ کچھ صابن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ناجائز ہے اس لئے کہ اس میں حرام جانوروں کی چکنائی ملی ہوتی ہے. لیکن جب ہم اس صابن کمپنی سے رابطہ کریں تو وہ اس بات سے منع کرتے ہیں. ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

Answer #: 2509

الجواب حامدا ومصلیا

پہلے کسی معتبر لیبارٹی میں اس کی جانچ کریں اگر یقینی طور پر معلوم ہوجائے کہ واقعی اس میں حرام جانور (خنزیر وغیرہ) کی چربی شامل کی گئی ہے تو ایسے صابن کا استعمال کرنا مسلمان کے لیے ناجائز ہے، محض افواہی خبر سے یا شک وشبہ کی وجہ سے کوئی قطعی حکم نہیں لگایا جائے گا۔ یہ بھی یاد رہے صابون“ بننے کے مرحلے سے گزرنے کے بعد اگر مردار کی چربی کی حقیقت بدل جائے یعنی اس کے سابقہ خواص واثرات باقی نہ رہیں تو اس ”صابون“ کا استعمال جائز  ہے ۔

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غَفَرَاللّٰہُ لَہٗ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

‏07‏ جمادى الأول‏، 1441ھ

‏03‏ جنوری‏، 2020ء