22 Aug, 2018 | 10 Zulhijjah, 1439 AH

Mera sawal yeh ki 1) kya baith kar gusl karna sunnat h ya mustahab ya mubah? huzur s gusl karna kis tarah saabit h?. 2)kya baith kar pajama aur kurta pehenna sunnat h?, agar sunnat h to guslkhane m agar koi baithne ki cheez nahi h to kis tarah baith kar pajama aur kurta pehna jayega?. 3) agar mai jamaat ki saf m khada hu,agar bagal wala musalli thoda sa apni jagah s khiska aur saf m khalaa ho gayi lekin itni nahi ki koi musalli akar khada ho jaye, to kya mujhe namaz ki haalat m us khalaa ko pur karna chaihye ya nahi, uski surat kya hogi?, ki paav failau(hanafi maslak k khilaf) ya thoda sa khisak jau kyuki agar m khiska to fir dusri janib k sab musalli ko khisakna padega.

میرا سوال یہ ہے کہ

  1. کیا بیٹھ کر غسل کرنا سنت ہے یا مستحب ہے یا مباح ؟
  2. حضور ﷺ سے غسل کرنا کس طرح ثابت ہے؟
  3. کیا بیٹھ کر پاجامہ اور کرتا پہننا سنت ہے؟
  4.  اگر سنت ہے تو غسل خانے میں اگر کوئی بیٹھنے کی چیز نہیں ہے تو کس طرح بیٹھ کر پاجامہ اور کرتا پہنا جائےگا؟
  5. اگر میں جماعت کی صف میں کھڑا ہوں اور بغل والا مصلی تھوڑا سا اپنی جگہ سے کھسکا اور صف میں خلا ہو گیالیکن اتنا نہیں کہ کوئی مصلی آکر کھڑا ہو جائے، تو کیا مجھے نماز کی حالت میں اس خلا کو پر کرنا چاہیے یا نہیں، اس کی صورت کیا ہوگی؟ کیا پاؤں پھیلاؤں (حنفی مسلک کے خلاف) یا تھوڑا سا کھسک جاؤں کیونکہ اگر میں کھسکا تو پھر دوسری جانب کے سب مصلیوں کو کھسکنا پڑے گا۔

الجواب حامدا ومصلیا

1-4   بیٹھ کر غسل کرنا اولی اور افضل ہے کیونکہ اس میں پردہ زیادہ ہے ۔ روایات سے مفہوم ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر غسل فرماتے تھے ۔ ( احسن الفتاوی : ۲/ ۳۵)

اگر بیٹھ کر غسل کرنے کی جگہ نہ ہو تو کھڑے ہو کر بھی غسل کر سکتےہیں ، غسل خانے میں کھڑے ہو کر کپڑے پہنے جائیں کیونکہ بیٹھ کر پہننے سے  کپڑے خراب ہو جائیں گے۔

5    اگر کوئی شخص کسی صف سے وضو ٹوٹنے کی وجہ سے لوگوں کو چیرتا ہوانکل گیا تو پچھلی صف والوں پر واجب ہے کہ ازخود آگے بڑھ کر اس خلا کو پُر کریں ، اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو بعد میں آنے والا شخص صف کے سامنے سے گذر کر یہاں کھڑا ہو، اگر صف کے سامنے سے گذرنے کی جگہ نہ ہو تو صف چیر کر آگے  آئے اور خلا پر کرے۔

صف کا خلا پر کرنے کے لئے نمازی کے سامنے سے گذرنا جائز ہے۔ باقی صف بناتے وقت زیادہ خلا نہ رکھا جائے اور مل مل کر کھڑے ہوجانا چاہیے۔ تاکہ  بعد میں ادھر ادھر کھسکنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

فی الدر المختار  - (1/ 570)

ولو وجد فرجة في الأول لا الثاني له خرق الثاني لتقصيرهم، وفي الحديث «من سد فرجة غفر له» وصح «خياركم ألينكم مناكب في الصلاة» وبهذا يعلم جهل من يستمسك عند دخول داخل بجنبه في الصف ويظن أنه رياء كما بسط في البحر.

وفی حاشية ابن عابدين  -  (1/ 570)

بقي ما إذا رأى الفرجة بعد ما أحرم هل يمشي إليها؟ لم أره صريحا. وظاهر الإطلاق نعم، ويفيده مسألة من جذب غيره من الصف كما قدمناه فإنه ينبغي له أن يجيبه لتنتفي الكراهة عن الجاذب، فمشيه لنفي الكراهة عن نفسه أولى فتأمل. ثم رأيت في مفسدات الصلاة من الحلية عن الذخيرة إن كان في صف الثاني فرأى فرجة في الأول فمشى إليها لم تفسد صلاته لأنه مأمور بالمراصة. قال - عليه الصلاة والسلام - «تراصوا في الصفوف» ولو كان في الصف الثالث تفسد اهـ أي لأنه عمل كثير. وظاهر التعليل بالأمر أنه يطلب منه المشي إليها تأمل.

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۱۷؍ ذوالقعدہ ؍ ۱۴۳۹ھ

31 ؍ جولائی؍ 2018ء