19 Apr, 2019 | 13 Shaban, 1440 AH

Question #: 2366

February 01, 2019

اگر کسی لڑکی نے شادی سے پہلے زنا کیا ہو اور کئ بار کیا ہو تو کیا ایک ہی سزا ہوگی جتنی بار بھی کیا ہو ؟ اگر کوئی اپنے گناہ کی سزا کاٹنا چاہے تو وہ کہاں جائے ۔۔۔؟؟؟

Answer #: 2366

الجواب حامدا ومصلیا

جب آدمی سچے دل سے توبہ  کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ  بھی اس کی توبہ کو قبول فرمالیتے ہیں، اور اس کے گناہ کو معاف فرما دیتے ہیں،  چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى.

’’اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو شخص توبہ کرے، ایمان لائے، اور نیک عمل کرے ، پھر سیدھے راستے پر قائم رہے تو میں اس کے لیے بہت بخشنے والا ہوں۔‘‘

 یعنی جو بھی میرے حضور توبہ کرے تو میں اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہوں، خواہ اس نے کیسا ہی گناہ کیا ہو۔

 سیدنا ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے روایت کی، فرمایا :  ایک بندہ گناہ کر بیٹھا تو اس نے کہا، اے اللہ! میرا گناہ بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (میرے) بندے نے گناہ کیا، پھر اس نے جان لیا کہ اس کا ایک مالک ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر مؤاخذہ بھی کرتا ہے، اس آدمی نے پھر گناہ کیا اور کہا کہ اے میرے مالک! میرا گناہ بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندہ نے ایک گناہ کیا اور اس نے جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر مؤاخذہ بھی کرتا ہے۔ اس آدمی نے پھر گناہ کیا اور کہا کہ اے میرے پالنے والے! میرا گناہ بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندے نے گناہ کیا اور اس نے جان لیا کہ اس کا ایک اللہ ہے، جو گناہ بخشتا ہے اور گناہ پر مؤاخذہ بھی کرتا ہے، تو اے بندے ! اب تو جو چاہے عمل کر، میں نے تجھے بخش دیا۔ ( مسلم، کتاب التوبۃ، باب قبول التوبۃ من الذنوب )

لہذا صورت مسئولہ میں  وہ لڑکی اللہ تعالیٰ سے پکی سچی توبہ کرلے اور  اس کے بعد نیک  سیرت اور اچھے چال چلن کے ساتھ  زندگی گذارے ، بس یہی اس کے گناہ کی  توبہ ہے،   اور زنا کی سزا کاٹنے کے لیے اس کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

۳۰  ، جمادی الأول  ، ۱۴۴۰ھ

‏05‏ ، فروری‏، 2019ء