17 Jul, 2019 | 14 Dhul Qadah, 1440 AH

Question #: 2465

June 15, 2019

اسلام وعلیکمِ مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ کیا کرنسی کا کاروبار جائز ہے؟ جیسے کہ.ڈالر وغیرہ کو کم قیمت خرید.کر فروخت کیا جاتا ہے. اسے فارن ایکس چینج کہتے ہیں. ِ.کے نام سے دنیا کا بہت بڑا کاروبار ہے. Forex اسمیں بروکر پیسے لیتا ہےاور کاروبار میں جو منافع ہوتا ہے. اسمیں سے اپنی مرضی سے حصہ ادا کرتا ہے سرمایہ لگانے والے کو کیا یہ جائز ہے؟

Answer #: 2465

الجواب حامدا ومصلیا

 سوال  میں فاریکس ( Forex ) کے جس کاروبار کی تفصیل درج  ہے اس کے  مطابق  یہ کاروبار شرعاً جائز نہیں ہے کیونکہ اس کا  طریقہ  کار ہمارے علم کے مطابق  یہ ہوتا ہے کہ  اگر کوئی شخص براہ راست اس مارکیٹ  میں خریداری  کا اہل نہیں  ہوتا  بلکہ وہ کسی  کمپنی  میں کچھ  رقم مثلا  ایک ہزار ڈالر سےا پنا اکاؤنٹ کھلوا کر اس کے ذریعے  اس مارکیٹ  میں داخل ہوتا ہے اور یہ کمپنیاں  دیگر سہولیات کے علاوہ  ایک بڑی  رقم کی ضمانت بھی اسے فراہم کرتی ہیں  انٹر نیٹ پراس  مارکیٹ  کے  حوالے  سے مختلف  اشیاء کے  ریٹ آرہے  ہوتے ہیں  اور لمحہ بہ لمحہ  کم زیادہ ہوتے رہتے ہیں  یہ شخص کمپنی کی  طرف سے  فراہم کردہ  بڑی رقم  سے کوئی سودا  کرتا ہے اور پھر ریٹ  بڑھتے  ہی اسے آگے فروخت  کر کے نفع  کماتا ہے  اور اگر قیمت  گر جاتی  ہے تو یہ اس کا  نقصان شمار ہوتا ہے  کمپنی ایک ٹریڈ مکمل  ہونے پرا پنا طے شدہ کمیشن  وصول  کرتی ہے  اور اگر مقررہ وقت پرسودا مکمل نہ ہوسکے  تو کمپنی  اس کے بعد مزید چارجز وصول  کرتی ہے  اور اس شخص کا کوئی چیز خریدنا  اور فروخت کرنا سب کاغذی کاروائی ہوتی ہے خریدی ہوئی  اشیاء پر  نہ قبضہ  ہوتااور نہ قبضہ  کرنا مقصود ہوتاہے  بلکہ محض  نفع ونقصان برابر  کیاجاتاہے  اس لیے یہ سٹہ  کی ایک صورت ہونے کی وجہ سے حرام ہے ۔

(ماخذہ : فتوی دار العلوم کراچی)

والله اعلم بالصواب

احقرمحمد ابوبکر صدیق  غفراللہ لہ

دارالافتاء ، معہد الفقیر الاسلامی، جھنگ

‏30‏ شوّال‏، 1440ھ

‏04‏ جولائی‏، 2019ء